اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیجنوبی سوڈان میں خانہ جنگی کے خدشات، تین لاکھ افراد بے گھر:...

جنوبی سوڈان میں خانہ جنگی کے خدشات، تین لاکھ افراد بے گھر: اقوام متحدہ
ج

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں حریف رہنماؤں کے درمیان مسلح تصادم کے باعث رواں سال 2025 میں اب تک تقریباً تین لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جس سے ملک دوبارہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔

یہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی پیر کے روز اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق جنوبی سوڈان کی جانب سے رپورٹ کی گئی۔ کمیشن نے انتباہ دیا کہ صدر سلوا کیر اور معطل نائب صدر ریک مشار کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع ملک کو مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اور اس صورتحال سے بچنے کے لیے فوری علاقائی مداخلت ناگزیر ہے۔

جنوبی سوڈان 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے سیاسی عدم استحکام اور نسلی تشدد کا شکار رہا ہے۔

ملک 2013 میں خانہ جنگی میں اس وقت ڈوب گیا جب صدر کیر نے نائب صدر مشار کو برطرف کر دیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان 2017 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، تاہم گزشتہ چند ماہ سے ان کا کمزور اقتدارِ اشتراک معاہدہ بگڑتا جا رہا تھا اور گزشتہ ماہ فریقین کے حامی گروہوں میں پرتشدد جھڑپوں کے باعث معطل کر دیا گیا۔

مارچ میں شمال مشرقی قصبے نصیر میں فوج اور نُوئر نسل کے مسلح گروہ کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور 80 ہزار سے زائد بے گھر ہوئے، جس کے بعد ریک مشار کو نظر بند کر دیا گیا۔

ستمبر میں ان پر بغاوت، قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے، تاہم ان کے وکیل نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا۔ صدر کیر نے رواں ماہ اکتوبر کے اوائل میں مشار کو ان کے عہدے سے باضابطہ طور پر معطل کر دیا۔

مشار نے الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ جنوبی سوڈانی شہری ہمسایہ سوڈان جا چکے ہیں، جہاں پہلے ہی دو سال سے خانہ جنگی جاری ہے، جب کہ اتنی ہی تعداد میں پناہ گزین یوگنڈا، ایتھوپیا اور حتیٰ کہ کینیا تک پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اب خطے کے مختلف ممالک میں جنوبی سوڈان کے پچیس لاکھ سے زائد پناہ گزین موجود ہیں، جب کہ ملک کے اندر بھی تقریباً بیس لاکھ افراد بے گھر ہیں۔

کمیشن نے موجودہ بحران کو بدعنوانی اور حکومتی احتساب کے فقدان سے جوڑا ہے۔

کمشنر بارنی افاکو نے کہا کہ سیاسی بحران، بڑھتی ہوئی لڑائی اور بے لگام، منظم بدعنوانی — یہ سب قیادت کی ناکامی کی علامتیں ہیں۔

کمیشن کی سربراہ یاسمین سوکا کے مطابق، یہ بحران دراصل ان رہنماؤں کے ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنی عوام کے مفاد کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔

اقوام متحدہ کی ستمبر میں شائع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ تیل سے سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے میں ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر غائب ہیں، جب کہ ملک کی تین چوتھائی آبادی شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہے۔

کمشنر افاکو نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر علاقائی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو جنوبی سوڈان تباہ کن نتائج سے دوچار ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول، جنوبی سوڈان کے عوام افریقی یونین اور علاقائی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ انہیں ایک قابلِ گریز المیے سے بچائیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین