ڈھاکہ، 13(مشرق نامہ) اکتوبر (بی ایس ایس/اے پی پی): چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) پر زور دیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں نوجوان زرعی کاروباری افراد، خواتین، کسانوں اور فوڈ پروسیسرز کی معاونت کے لیے ایک سماجی کاروباری فنڈ (Social Business Fund) قائم کرے۔
پروفیسر یونس نے یہ تجویز اتوار کو روم (اٹلی) میں منعقدہ ورلڈ فوڈ فورم کے موقع پر آئی ایف اے ڈی کے صدر ایلویرو لاریو سے ملاقات کے دوران پیش کی۔
انہوں نے کہا:’’میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ آپ ایک سماجی کاروباری فنڈ قائم کریں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا فنڈ سماجی مسائل، بالخصوص غریبوں کے لیے صحت کی سہولیات، کے حل میں مددگار ہوگا اور نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ افراد میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے گا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کئی اسٹریٹجک موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں گہرے سمندر میں ماہی گیری کی صنعت کے آغاز، آم اور کٹھل کی برآمدات میں توسیع، موسمیاتی لچکدار زرعی کاروبار کے فروغ، اور بھینسوں کے دودھ سے موزریلا پنیر تیار کرنے والے کسانوں کی مدد شامل تھیں۔
پروفیسر یونس نے آئی ایف اے ڈی کے صدر کو بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت دی اور تجویز دی کہ وہ ایک ٹیم بھیجیں جو زراعت، سماجی کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے۔
اس موقع پر صدر ایلویرو لاریو نے بنگلہ دیش میں سماجی کاروباری منصوبوں کے فروغ اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے میں آئی ایف اے ڈی کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فی الحال آئی ایف اے ڈی چھ سے زائد زرعی منصوبوں کی مالی معاونت کر رہا ہے۔
چیف ایڈوائزر نے بنگلہ دیش میں پھلوں کی پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، گوداموں اور استوائی پھلوں (خصوصاً آم اور کٹھل) کی بڑے پیمانے پر برآمد کے لیے تکنیکی اور سرمایہ کاری کی معاونت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا:’’ہم نے آم کی برآمدات شروع کر دی ہیں، مگر مقدار ابھی کم ہے۔ چین نے آم اور کٹھل دونوں کی بڑی مقدار میں درآمد میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔‘‘
ملاقات میں فشریز و لائیوسٹاک ایڈوائزر فریدہ اختر نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی خواتین دودھ کی مصنوعات، خصوصاً بھینس کے دودھ سے موزریلا پنیر تیار کر رہی ہیں، اور اس پیداوار کو بڑھانے کے لیے آئی ایف اے ڈی کی معاونت طلب کی۔
پروفیسر یونس نے خلیج بنگال میں گہرے سمندر کی ماہی گیری کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر بنگلہ دیشی ماہی گیر سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث صرف اتھلے پانیوں میں کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا:’’ہم ابھی تک گہرے سمندر میں ماہی گیری کا آغاز کرنے کی ہمت نہیں کر پائے۔ آئی ایف اے ڈی اس شعبے کی فنڈنگ اور ٹیکنالوجی شیئرنگ کے ذریعے مدد کر سکتا ہے۔‘‘
1978 میں بنگلہ دیش میں آغاز کے بعد سے آئی ایف اے ڈی 37 منصوبوں میں شراکت دار رہا ہے، جن کی مجموعی مالیت 4.26 ارب امریکی ڈالر ہے، جن میں سے 1.13 ارب ڈالر آئی ایف اے ڈی نے براہِ راست فراہم کیے۔
فی الحال 412 ملین ڈالر مالیت کے چھ منصوبے جاری ہیں، جبکہ ایک نیا منصوبہ تیاری کے مرحلے میں ہے۔
پروفیسر یونس اتوار کو شام 5 بجے (روم کے وقت) ورلڈ فوڈ فورم میں شرکت کے لیے روم پہنچے۔ وہ اس موقع پر ایک کلیدی خطاب (Keynote Speech) بھی دیں گے اور اعلیٰ سطحی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
ملاقات میں فوڈ ایڈوائزر علی امام مجمدر، ایس ڈی جی کوآرڈینیٹر و سینئر سیکریٹری لمیہ مرشد، سیکریٹری خارجہ اسد عالم سیام اور آئی ایف اے ڈی کے ایسوسی ایٹ نائب صدر ڈونل براؤن بھی شریک تھے۔

