انٹاناناریوو (مشرق نامہ) – ایک اعلیٰ فوجی یونٹ جو 2009 میں صدر کو اقتدار میں لایا تھا، اب اُن نوجوان مظاہرین میں شامل ہو گیا ہے جو ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مڈغاسکر کے صدارتی دفتر نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ملک میں ’’غیر قانونی اور طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی کوشش‘‘ جاری ہے، ایک روز بعد جب ایک ایلیٹ فوجی یونٹ کے اہلکار حکومت مخالف نوجوانوں کے احتجاج میں شامل ہو گئے۔
صدارتی بیان میں کہا گیا کہ اس صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر جمہوریہ کے صدر اس تخریبی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں اور تمام قومی قوتوں سے آئینی نظام اور قومی خودمختاری کے دفاع میں متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس مبینہ بغاوت کے پیچھے کون ہے۔ تاہم CAPSAT نامی ایلیٹ یونٹ کے ارکان، جس نے ماضی میں راجولینا کو اقتدار میں لانے میں کردار ادا کیا تھا، نے کہا کہ وہ تین ہفتے سے جاری مہلک جن زی (Gen Z) احتجاج کے بعد مسلح افواج کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔
ان اہلکاروں نے ہفتے کے روز جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اب سے زمینی، فضائی یا بحری افواج کے تمام احکامات CAPSAT ہیڈکوارٹر سے جاری ہوں گے۔
یہ واضح نہیں کہ فوج کے دیگر یونٹ ان احکامات کی پیروی کریں گے یا نہیں۔
تیزی سے پھیلتے احتجاج کے پیش نظر، صدر اینڈری راجولینا اپنے اقتدار کے بدترین سیاسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
تازہ صورتحال
جن زی مڈغاسکر نامی گروہ کے احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والا مظاہرہ گزشتہ ماہ شروع ہونے والی بدامنی کے بعد سب سے بڑا تھا، جس میں زندگی کے بڑھتے اخراجات اور بدعنوانی جیسے مسائل پر غصہ ظاہر کیا گیا۔
کرنل مائیکل رینڈریانی رینا، جو CAPSAT یونٹ کے رکن ہیں، نے بکتر بند گاڑی سے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم اسے بغاوت کہیں؟ مجھے ابھی یقین نہیں۔
CAPSAT افسران نے اعلان کیا کہ انہوں نے جنرل ڈیموس تھی نی پیکولاس کو فوج کا سربراہ نامزد کیا ہے۔ یہ عہدہ اس وقت خالی تھا کیونکہ اس کے سابق سربراہ کو پچھلے ہفتے وزیر دفاع بنایا گیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تقرری قانونی طور پر نافذ العمل ہے یا نہیں۔
ابھی تک دیگر فوجی یونٹوں یا موجودہ کمان سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ہفتے کو کچھ فوجی اہلکاروں نے ایک بیرک میں ژنڈارم فورسز سے جھڑپ کے بعد شہر کی جانب پیش قدمی کی تاکہ ان نوجوان مظاہرین کے ساتھ شامل ہو سکیں جو صدر راجولینا کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
احتجاج کیوں شروع ہوا؟
25 ستمبر کو نوجوانوں نے پانی اور بجلی کی قلت کے خلاف مظاہرے شروع کیے۔ یہ تحریک دیگر ممالک — مثلاً کینیا، انڈونیشیا، مراکش، نیپال اور بنگلہ دیش — میں جن زی قیادت والی تحریکوں سے متاثر تھی۔
جلد ہی یہ احتجاج صدر راجولینا کے استعفے، سینیٹ کے خاتمے اور صدر کے قریبی کاروباری طبقے کے لیے خصوصی مراعات ختم کرنے کے مطالبات تک پھیل گئے۔ مظاہرین صدر سے تشدد پر معافی اور ذمہ داری قبول کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک 22 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
مڈغاسکر، جو مشرقی افریقہ کے ساحل سے باہر ایک جزیرہ ملک ہے اور جس کی آبادی 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہے، سیاسی بحرانوں کی تاریخ رکھتا ہے۔ 1960 میں فرانس سے آزادی کے بعد سے کئی حکمران عوامی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جا چکے ہیں۔
نوجوان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں "آزاد، مساوات پر مبنی اور متحد معاشرہ” تعمیر کیا جائے۔
ان کے بنیادی مطالبات میں بدعنوانی کے خاتمے، عوامی فنڈز کے غلط استعمال، اقرباپروری، تعلیم و بنیادی خدمات کی ناکامیوں، اور جمہوریت کی بحالی شامل ہیں۔
51 سالہ راجولینا پہلی بار 2009 میں ابھرے، جب وہ دارالحکومت انٹاناناریوو کے میئر تھے اور انہوں نے حکومت مخالف احتجاج کی قیادت کی۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں فوج نے صدر مارک راوالومانانا کو معزول کر کے راجولینا کو عبوری رہنما بنایا۔ بعد ازاں 2018 میں وہ صدر منتخب ہوئے اور 2023 میں دوبارہ انتخابات جیتے، جنہیں حزبِ اختلاف نے بائیکاٹ کیا تھا۔
جن زی مڈغاسکر کون ہے؟
جن زی مڈغاسکر کا علامتی نشان ایک ڈاکو کا کھوپڑی و ہڈیوں والا جھنڈا ہے، جو جاپانی کارٹون “ون پیس” سے متاثر ہے۔ یہ نشان اب عالمی سطح پر نوجوانوں کی مزاحمتی تحریکوں کی علامت بن چکا ہے، اور مڈغاسکر میں سیاہ لباس میں ملبوس مظاہرین اسی علامت کے ساتھ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔
یہ تصویر مڈغاسکر میں مقامی رنگ میں ڈھالی گئی ہے، جہاں کھوپڑی کے اوپر روایتی ملگاسی ٹوپی رکھی گئی ہے۔
یہ گروہ اپنی ویب سائٹ، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور GoFundMe پیج کے ذریعے منظم ہے۔ ان کی ویب سائٹ کے سرِ ورق پر لکھا ہے کہ نوجوانوں کی سیاسی تحریک، نوجوانوں کے ذریعے، مدغاسکر کے لیے۔
ویب سائٹ پر کہا گیا کہ انہوں نے سڑکوں پر ہماری آواز نہیں سنی، مگر اب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے نسلِ زی اپنی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائے گی۔ 16 سالہ جمود ختم کرنے کے لیے شفافیت، احتساب اور گہرے اصلاحات کا مطالبہ کریں۔
صدر راجولینا کی مذاکرات کی پیشکش کے جواب میں مظاہرین نے بیان جاری کیا کہ ہم ایسے نظام سے ہاتھ نہیں ملاتے جو روز انصاف کے لیے اٹھنے والوں کو کچل دیتا ہے۔ یہ حکومت مکالمے کی بات کرتی ہے مگر بندوقوں سے حکومت کرتی ہے۔
مڈغاسکر کے مظاہرین کا موازنہ اُن نوجوان تحریکوں سے کیا جا رہا ہے جنہوں نے بنگلہ دیش، نیپال اور کینیا میں سیاسی تبدیلیاں لائیں۔ نیپال میں گزشتہ ماہ بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد وزیراعظم کے پی شرما اولی مستعفی ہو گئے، جبکہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو طلبہ تحریک کے بعد ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہونا پڑا۔
دنیا بھر میں 30 سال سے کم عمر نوجوان ایک نئی لہر کے ساتھ سڑکوں پر ہیں۔ ان کی تحریکیں روایتی سیاسی ڈھانچوں سے مختلف ہیں، جو زیادہ تر آن لائن پلیٹ فارمز — جیسے ٹک ٹاک اور ڈسکارڈ — کے ذریعے منظم ہوتی ہیں۔
افریقہ سے ایشیا اور لاطینی امریکہ تک، نسلِ زی مظاہرین بدعنوانی، معاشی مشکلات، ماحولیاتی عدمِ توجہی اور سماجی نابرابری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور نظام میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حکومت کا موقف
وزیراعظم روفین فورچنیٹ زافسامبو نے ہفتے کی شب سرکاری ٹی وی TVM پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مکمل طور پر تیار ہے کہ تمام فریقوں — نوجوانوں، مزدور یونینوں اور فوج — کے ساتھ مکالمے میں شریک ہو۔
زافسامبو کو صدر راجولینا نے گزشتہ ہفتے اس وقت وزیراعظم نامزد کیا تھا جب انہوں نے عوامی دباؤ کے باعث سابق حکومت کو تحلیل کر دیا تھا، مگر اس اقدام سے عوامی غصہ کم نہ ہو سکا۔
بعد ازاں فوج کے سربراہ جنرل جوسلین رکوٹوسون نے مقامی میڈیا پر نشر کردہ بیان میں شہریوں سے اپیل کی کہ وہ "امن و استحکام کی بحالی میں سیکورٹی فورسز کی مدد کریں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔”

