بیروت (مشرق نامہ) – لبنان میں حزب اللہ نے ’’سید نصراللہ کی نسلوں کا اجتماع‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی جس میں پورے ملک سے 70 ہزار سے زائد اراکین نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر حزب اللہ کے نائب سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی وہ روشن مستقبل ہیں، دیانت اور انصاف کے علمبردار ہیں… آپ سید نصراللہ کی نسلیں ہیں جو ولایتِ فقیہ کے راستے پر امام خامنہ ای کی قیادت میں گامزن ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سید نصراللہ قوم کے شہداء کے سردار ہیں جنہوں نے آپ کے لیے قربانیاں دیں، عہد و ارادے اور امید کی بنیاد رکھی۔
شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ آپ مزاحمت کے راستے پر ہیں، اور مزاحمت سے ہماری مراد صرف عسکری نہیں بلکہ ایک جامع اور ہمہ جہت تصور ہے۔ یہ ایک تعلیمی، ثقافتی، اخلاقی اور سیاسی انتخاب ہے۔ مزاحمت انسان کے اپنے نفس اور دشمن کے خلاف جدوجہد ہے، یہ ایمان، ارادے، موقف، ثابت قدمی، وقار اور خودمختاری کی جدوجہد ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت نوجوان مرد و خواتین، سب کے لیے ایک انتخاب ہے، جو اصالت، وطن سے محبت، اور خاندان و عزیزوں کے دفاع کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔
امام مہدی اسکاؤٹس کے کمشنر جنرل نزیہ فیاض نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں کسی سے مقابلہ یا ریکارڈ بنانے نہیں آئے، بلکہ دشمن کو دکھانے آئے ہیں کہ سید کی نسلیں آج بھی ان کے راستے پر گامزن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ کل کے مستقبل ہیں، پرچم اٹھانے والے ہیں، اور لبنان کی تعمیر نفرت یا فرقہ واریت پر نہیں بلکہ وحدت و اخوت پر ہوگی۔
یہ اجتماع حزب اللہ کے شہید سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور سید ہاشم صفی الدین کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد کیا گیا۔
روایتی طور پر سید حسن نصراللہ ان سالانہ اجتماعات میں بنفسِ نفیس شرکت کرتے تھے اور انہیں اپنی محبوب تقریبات میں شمار کرتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میں اس اجتماع کا بے صبری سے انتظار کرتا ہوں اور اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔
اسکاؤٹس کے اراکین ان کی شرکت کے منتظر رہے اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ان کی تقاریر سننے کے لیے پرجوش تھے۔ ان کے بیانات انہیں اخلاقی و جذباتی تقویت دیتے اور سماجی خدمت کے جذبے کو بڑھاتے تھے۔
اجتماعی عہدِ وفاداری
تقریب میں اسکاؤٹس کے اراکین نے دونوں شہداء کے ساتھ اجتماعی عہدِ وفاداری اور بیعت کی تجدید کی، عزم کیا کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں گے۔
’’سید نصراللہ کی نسلوں کا اجتماع‘‘ ان کی شہادت کی برسی پر وداعی تقریب نہیں بلکہ ایک تسلسل کی علامت ہے، کیونکہ ان کی روح اسکاؤٹس کی ہر سرگرمی میں زندہ و حاضر محسوس ہوتی ہے۔
یہ اجتماع بیروت کے اسپورٹس سٹی میں منعقد ہوا، جو نہ صرف ہزاروں شرکاء کو سمو سکتا ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں سید نصراللہ نے اپنے عوام سے آخری ملاقات کی تھی۔
تقریب کا آغاز صبح 9 بج کر 20 منٹ پر ہوا اور اس میں فنّی، موسیقی اور نعتیہ مظاہرے پیش کیے گئے جو اس بات کا اظہار تھے کہ نئی نسلیں آج بھی سید نصراللہ کے نظریات سے وابستہ ہیں۔
اجتماع کا اختتام ترانے "سلام یا مہدی” پر ہوا، جو ایرانی ترانے "سلام فرماندہ” کا عربی ورژن ہے۔ یہ وہی نغمہ ہے جس کی تیاری اور پیشکش کی نگرانی خود شہید سید حسن نصراللہ نے کی تھی۔

