اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیبنگلہ دیش میں بچوں کیلیے ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز

بنگلہ دیش میں بچوں کیلیے ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز
ب

ڈھاکہ (مشرق نامہ) – بنگلہ دیش نے ملک بھر میں ایک وسیع ٹیکہ مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد لاکھوں بچوں کو ٹائیفائیڈ جیسی جان لیوا بیماری سے محفوظ بنانا ہے، جو تیزی سے اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہی ہے۔

یہ ایک ماہ طویل مہم اتوار کے روز شروع کی گئی، جس کے دوران نو ماہ سے پندرہ سال کی عمر کے تقریباً پچاس ملین بچوں کو ٹائیفائیڈ کنجوگیٹ ویکسین (TCV) کی ایک خوراک دی جائے گی۔

یہ ویکسین عالمی ادارۂ صحت (WHO) سے منظور شدہ ہے، جو پانچ سال تک تحفظ فراہم کرتی ہے، اور اسے حکومت کے توسیعی حفاظتی پروگرام (EPI) کے تحت مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں اینٹی بایوٹک مزاحم ٹائیفائیڈ کی اقسام تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ پاکستان 2016 سے ایک ایسے جرثومے سے نبرد آزما ہے جو تقریباً تمام اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے سوائے ایک کے۔

بنگلہ دیش میں صحت کے کارکن اسکولوں، کلینکس اور گھروں پر جا کر بچوں کو یہ ویکسین لگا رہے ہیں، خاص طور پر شہری کچی آبادیوں اور دور دراز دیہات میں۔ یہ مہم 13 نومبر تک جاری رہے گی، جس کے بعد TCV کو ملک کے معمول کے حفاظتی پروگرام میں شامل کر لیا جائے گا۔

ٹائیفائیڈ سالمونیلا ٹائیفی بیکٹیریا سے پھیلتا ہے جو آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ یہ بخار، پیٹ میں درد اور متلی پیدا کرتا ہے، اور علاج نہ ہونے کی صورت میں مہلک پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

حال ہی میں بنگلہ دیشی محققین نے سیفٹریکسون کے خلاف مزاحم ٹائیفائیڈ اقسام کی نشاندہی کی ہے، جو تشویشناک پیش رفت ہے کیونکہ سیفٹریکسون اب تک مؤثر علاج میں شمار ہوتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو مزاحم اقسام اس بیماری کو قابو میں لانا انتہائی مشکل بنا سکتی ہیں۔ ویکسین الائنس ’گاوی‘ کی معاونت سے جاری اس مہم کا مقصد انفیکشن کی شرح میں کمی اور جرثومے کی مزاحم اقسام کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

مہم کے افتتاح کے موقع پر حکومت کی مشیر صحت نرجہان بیگم نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش میں بچے ٹائیفائیڈ سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک ٹائیفائیڈ پر بھی اسی طرح قابو پائے گا جیسے اس نے اسہال اور شب کوری (نائٹ بلائنڈنس) پر پایا تھا۔

حکام نے بتایا کہ پاکستان، نیپال اور بھارت کے شہر ممبئی میں اس ویکسین کا کامیاب استعمال کیا جا چکا ہے اور کسی بڑے مضر اثر کی اطلاع نہیں ملی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین