اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیپاک افغان جھڑپوں پر ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس، پاکستان پر...

پاک افغان جھڑپوں پر ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس، پاکستان پر الزامات
پ

کابل (مشرق نامہ) افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے سرحد پر حملے کے دوران 58 پاکستانی اہلکاروں کو مارنے اور 30 کو زخمی کرنے دعویٰ کیا ہے۔ انکا دعویٰ ہے کہ طالبان نے 20 پاکستانی چیک پوسٹوں پر بھی قبضہ کیا تھا، تاہم وہ پاکستان کو واپس کر دی گئیں۔

کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی کارروائیوں میں پاکستان کے 58 سکیورٹی اہلکار مارے گئے اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی کے دوران پاکستان کی 20 چیک پوسٹوں پر عارضی قبضہ کیا گیا، تاہم لڑائی بند ہونے کے بعد انہیں واپس کر دیا گیا۔

افغان ترجمان نے اس جھڑپ میں 9 طالبان جنگجوؤں کی اموات اور 18 کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی۔ انہوں نے پاکستان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے سربراہ پاکستان میں مقیم ہیں اور یہ تنظیم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فعال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "افغانستان سے داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کے تربیتی مراکز پاکستان میں موجود ہیں۔”

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ حملوں میں پاکستان سے داخل ہونے والے داعش جنگجو ملوث تھے۔

ترجمان نے افغان وزیر خارجہ کے بھارت کے دورے کے حوالے سے کہا کہ یہ دورہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک پاکستانی حکام نے طالبان ترجمان کے ان دعووں پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، اور ان دعووں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین