اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانپی ٹی آئی کی جلدبازی سے کے پی میں وزیراعلٰی کا انتخاب...

پی ٹی آئی کی جلدبازی سے کے پی میں وزیراعلٰی کا انتخاب متاثر ہوسکتا ہے
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ):پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا میں نئے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے غیرمعمولی عجلت دکھا رہی ہے، جبکہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کی باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا۔

ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس جلدبازی سے آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے اور انتخابی عمل خود متاثر یا معطل ہوسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی اکثریت چاہتی ہے کہ پارٹی پارلیمانی گروپ سہیل آفریدی کو گنڈاپور کے بعد نئے وزیرِاعلیٰ کے طور پر منتخب کرے، تاہم قانونی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی کسی بھی کارروائی کی آئینی حیثیت مشکوک ہوگی۔

قانونی ماہرین کے مطابق، وزیرِاعلیٰ کا عہدہ اس وقت تک خالی تصور نہیں کیا جاسکتا جب تک گورنر استعفیٰ قبول نہ کرے۔ باضابطہ منظوری اور نوٹیفکیشن کے بغیر کسی نئے وزیرِاعلیٰ کا انتخاب قانونی تنازعات کو جنم دے گا۔

ایک سینئر ماہرِ قانون نے کہا، ’’کابینہ اسی وقت تحلیل ہوتی ہے جب وزیرِاعلیٰ کا استعفیٰ منظور کرلیا جائے، اس سے پہلے علی امین گنڈاپور ہی آئینی طور پر وزیرِاعلیٰ کے عہدے پر فائز ہیں۔‘‘

ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے اندر بھی یہ خدشہ موجود ہے کہ ماضی میں پارٹی ارکانِ اسمبلی کے استعفے فوری طور پر منظور نہیں کیے گئے تھے، جس کے باعث عدالتی مداخلت کی نوبت آئی۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اس بار ضابطہ جاتی تقاضوں کو نظرانداز کرنے سے سہیل آفریدی کے انتخاب میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

ایک سینئر پارٹی رہنما نے تبصرہ کیا، ’’لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر کوئی نیا وزیرِاعلیٰ منتخب ہونے کے عمل کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘

پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی قیادت چاہتی ہے کہ انتخاب ’’جلد از جلد‘‘ مکمل کیا جائے، حالانکہ گورنر ہاؤس نے ابھی تک گنڈاپور کا استعفیٰ قبول نہیں کیا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کو نظرانداز کرتے ہوئے اگر انتخاب کیا گیا تو وہ قانونی طور پر کالعدم تصور ہوگا۔ پارٹی کے اندر بھی یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ جلدبازی سے صوبہ خیبرپختونخوا سیاسی و آئینی غیر یقینی کی ایک نئی لہر میں داخل ہوسکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین