مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستانی کوہ پیما اسد علی میمن نے وہ تاریخی کارنامہ انجام دے دیا جو دنیا کے چند ہی لوگ سرانجام دے پاتے ہیں — انہوں نے دنیا کے ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کر کے سیون سمٹس چیلنج مکمل کر لیا، جس سے پاکستان کا نام عالمی سطح پر فخر سے بلند ہوا۔
اسد نے اپنا آخری ہدف انڈونیشیا کی پُنچاک جایا چوٹی (Carstensz Pyramid) سر کر کے حاصل کیا۔ یہ پہاڑ اپنی پتھریلی راہوں اور غیر متوقع موسم کے باعث انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ اسد نے چھ سالہ مہم کو کامیابی سے مکمل کیا۔
ان کا سفر 2019 میں یورپ کے ماؤنٹ ایلبرس سے شروع ہوا۔
2020 میں انہوں نے جنوبی امریکہ کی اکانکاگوا چوٹی سر کی، جہاں سخت ہواؤں اور منفی درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے بعد انہوں نے ایشیا میں ماؤنٹ ایورسٹ، افریقہ میں کلیمنجارو، شمالی امریکہ میں ڈینالی، انٹارکٹیکا میں ونسن میسیف اور آخر میں اوشینیا میں پُنچاک جایا سر کی۔
اس دوران اسد کو بلند فضاؤں، خطرناک راستوں اور شدید موسم جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کے حوصلے، تربیت اور عزم نے انہیں کامیاب بنایا۔
یوں اسد علی میمن اب ان چند ممتاز عالمی کوہ پیماؤں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے سیون سمٹس مکمل کیں۔
یہ شاندار کامیابی پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنی ہے۔ ملک بھر سے مداح انہیں مبارک باد دے رہے ہیں اور امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اسد کی یہ کامیابی نوجوانوں کو مہم جوئی اور کھیلوں کے شعبے میں اپنے خواب پورے کرنے کی ترغیب دے گی۔

