مانٹرئنگ ڈیسک(مشرق نامہ)مودی کی آمرانہ اور اقلیت دشمن طرزِ حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہندوتوا عسکریت پسند تنظیم بجرنگ دل انتہا پسند مودی کی سرپرستی میں سرگرم ہے۔
اقتدار کو مذہبی جنونیت کے ذریعے برقرار رکھنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔
مودی کی فسطائی حکومت نے فرقہ واریت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
مودی کی سرپرستی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بجرنگ دل منظم انتہاپسندی کی علامت بن چکے ہیں۔
اڑیسہ کے شہر کٹک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اقلیتوں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے “غاصب مودی” کی نااہل حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “کٹک جل رہا ہے، بی جے پی ملک کو تباہ کر دے گی۔”
ممتا بینرجی نے انکشاف کیا کہ بی جے پی اور بجرنگ دل نے کٹک میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ “میں نے بی جے پی جیسی مغرور اور آمرانہ حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔”
ممتا بینرجی نے مزید پیش گوئی کی کہ “اگر آج بی جے پی اقتدار میں ہے، تو کل نہیں ہوگی۔”
مودی کے دور میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، اور بجرنگ دل و آر ایس ایس سمیت کئی انتہاپسند تنظیموں کو کھلی آزادی حاصل ہے۔
مودی کی اقتدار پرستی نے بھارت کو مذہبی نفرت کی سیاست میں دھکیل دیا ہے۔
مزید برآں، مودی کا خونی کھیل نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

