لاہور(مشرق نامہ):تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے ہفتے کے روز اپنے "غزہ مارچ” کا دوبارہ آغاز کیا اور شام تک مریدکے پہنچ گئے۔ اس سے قبل انہوں نے شاہدرہ میں رات بھر دھرنا دیا تھا، جہاں پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور شہر کے کئی حصے مفلوج ہو گئے۔
ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی کی قیادت میں یہ مارچ جمعے کی دوپہر ملتان روڈ سے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
مارچ کے باوجود صوبائی حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی اور اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے لیے شہر کے بڑے داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔
ٹی ایل پی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے شاہدرہ اور لاہور کے دیگر علاقوں میں مظاہرین پر "بے تحاشا طاقت” کا استعمال کیا، حتیٰ کہ براہِ راست گولیاں اور آنسو گیس شیل فائر کیے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کے دو درجن کارکن ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، تاہم یہ اعداد و شمار آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے حملے کیے، جس میں 100 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق، "انتہائی ضبط” سے کام لیا گیا اور کوئی براہِ راست فائرنگ نہیں کی گئی۔
جمعے کی شب کئی گھنٹے کے تعطل کے بعد مظاہرین نے شاہدرہ میں دھرنا دیا۔ ہفتے کی شام تک قافلہ مریدکے پہنچ گیا جہاں ٹی ایل پی قیادت نے اعلان کیا کہ وہ رات وہیں گزاریں گے اور اتوار کو اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ شروع کریں گے۔
ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہائی الرٹ جاری ہے، اہم داخلی راستوں پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں، میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے اور موبائل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بند کر دی گئی ہے۔
ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ اس کا مارچ "غزہ کے مظلوموں سے پرامن یکجہتی” کے لیے ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ جماعت مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق، ٹی ایل پی کا پرتشدد اور مسلح احتجاج امن و امان کو درہم برہم کرنے اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش ہے، جسے کسی طور بھی فلسطینی عوام سے یکجہتی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن معاہدہ طے پا چکا ہے اور وہاں کے مسلمان اطمینان و شکر کے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ٹی ایل پی پاکستان میں توڑ پھوڑ اور انارکی پھیلا کر اپنے "خطرناک عزائم” حاصل کرنا چاہتی ہے، جو اسرائیلی انتہا پسندوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل مسلح گروہ پولیس اہلکاروں پر حملے کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر خود کو مظلوم ظاہر کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے اغوا اور ان پر تشدد ریاستی رٹ کے خلاف بغاوت ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ریاستی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں سے دور رہیں، شرپسند عناصر کی حمایت نہ کریں اور امن برقرار رکھنے میں پولیس سے تعاون کریں۔
دوسری جانب، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے صورتحال کو پُرامن طور پر حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی حکومت کے نمائندے رانا ثنااللہ سے رابطہ کیا، اور فریقین پر زور دیا کہ تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کی درخواست پر حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، مولانا فضل الرحمن نے خبردار کیا کہ ملک موجودہ حالات میں کسی نئے تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا ضروری ہے۔

