اسلام آباد(مشرق نامہ): اتوار کی صبح وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا جب پاک فوج نے افغان طالبان فورسز کی جانب سے سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال حملوں کا بھرپور جواب دیا۔
ریاستی میڈیا کے مطابق پاکستانی افواج نے افغان سرحد کے مختلف علاقوں میں افغان سیکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
وزیرِ داخلہ نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا: “افغان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج نے فوری اور مؤثر جواب دیا ہے، کوئی اشتعال برداشت نہیں کیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا، “پاکستان کی فورسز چوکس ہیں اور افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اپنی بہادر افواج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ افغانستان کو بھی بھارت کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔”
ریاستی نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ “پاکستان نے افغان سرحد کے اُس پار 19 افغان چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے جہاں سے پاکستان پر حملے کیے جا رہے تھے۔”
ذرائع کے مطابق “ان چوکیوں پر موجود افغان طالبان ہلاک ہو گئے جبکہ باقی جان بچا کر فرار ہو گئے، بعض چوکیوں میں آگ لگ گئی۔”
پی ٹی وی نیوز نے افغان چوکیوں پر فائرنگ کی ویڈیوز بھی جاری کیں، جن میں بعض جگہوں پر افغان فوجی ہتھیار ڈال کر پاکستانی فورسز کے سامنے سرینڈر کرتے نظر آئے۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے بین الاقوامی سرحد پر متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا جس سے بھاری نقصان ہوا۔ جوابی کارروائی میں آرٹلری، ٹینکوں، اور ہلکے و بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
افغان فورسز نے خیبرپختونخوا کے انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بلوچستان کے بارامچہ میں پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی تھی۔
طالبان سرحدی فورسز کے مطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب کابل نے پاکستان پر افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کا الزام لگایا۔ طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ “پاکستانی حملوں کے جواب میں مشرقی سرحدی فورسز مختلف مقامات پر شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔”
کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان عہدیداروں نے جھڑپوں کی تصدیق کی۔
اسلام آباد نے حملوں کی تصدیق نہیں کی مگر کابل سے مطالبہ کیا کہ “ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینا بند کرے۔”
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ “کئی افغان فوجی مارے گئے” اور “پاکستانی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی کے بعد شدت پسند پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔” افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور وہ شدت پسندوں کو کور فائر فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا: “افغان سرزمین میں داعش اور خوارج کے ٹھکانے، جو عبوری افغان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں، کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان آرٹلری، ٹینک، فضائی وسائل اور ڈرونز کے ذریعے ان مراکز کو تباہ کر رہا ہے۔”
ریاستی میڈیا کے مطابق “افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فوج کی جانب سے شدید کارروائی کی گئی ہے۔ پاکستان اس وقت سرحد کے قریب دہشت گردوں کے کیمپس اور خوارج و داعش کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔ افغان فورسز کئی علاقوں سے پسپا ہو گئی ہیں۔”
افغان وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ افغان فورسز نے “پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف جوابی کارروائیاں” کی ہیں۔ وزارت کے مطابق “آپریشن آدھی رات تک جاری رہا۔ اگر دوبارہ افغان سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو افغان فورسز بھرپور جواب دیں گی۔”
پشین اور ژوب میں دراندازی کی کوششیں
ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے بارامچہ میں پاکستانی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ “افغان چوکیوں کو تباہ کر دیا گیا اور مخالف جانب کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فائرنگ کا تبادلہ دو گھنٹے تک جاری رہا۔”
افغان فورسز نے پشین اور ژوب میں دراندازی کی بھی کوشش کی تاہم پاکستانی فورسز نے انہیں ناکام بنا دیا۔
تحمل کی اپیلیں
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور افغانستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا: “دونوں ممالک کا ضبط خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔”
سعودی عرب نے بھی تصادم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “مملکت تحمل، عدم تصادم اور مذاکرات و حکمت کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کرتی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔”
قطر نے بھی دونوں فریقوں سے کہا کہ وہ “مذاکرات، سفارت کاری اور صبر و تحمل کو ترجیح دیں اور تنازعات کو بڑھانے کے بجائے خطے کے امن کے لیے کام کریں۔”
پاک-افغان تعلقات میں بگاڑ
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں جبکہ افغانستان نے پاکستان پر خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
پاکستان طویل عرصے سے کہتا آ رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں کہا تھا: “اب بہت ہو گیا، حکومت اور افواجِ پاکستان کا صبر ختم ہو چکا ہے۔”
افغان حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان نے ایک بار پھر افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پکتیکا میں شہری مارکیٹ پر بمباری کی۔”
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت میں پریس کانفرنس کے دوران کابل دھماکے پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ “پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور ہمارے پاس اس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔”

