اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیایم آئی ٹی کا وائٹ ہاؤس کے نوٹیفکیشن سے انکار، تعلیمی آزادی...

ایم آئی ٹی کا وائٹ ہاؤس کے نوٹیفکیشن سے انکار، تعلیمی آزادی کا دفاع
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – جمعے کے روز میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)، امریکا کی پہلی یونیورسٹی بنی جس نے ان ہدایات کی مخالفت کی۔ یونیورسٹی کی صدر سیلی کارنبلتھ نے امریکی وزیرِ تعلیم لنڈا میکمہون کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا کہ یہ ہدایات تعلیمی خودمختاری اور اظہارِ رائے کی آزادی کو متاثر کرتی ہیں۔

کارنبلتھ نے اپنے بیان میں لکھا تھا کہ دستاویز کا بنیادی مفروضہ ہماری اس بنیادی قدر سے متصادم ہے کہ سائنسی فنڈنگ صرف سائنسی میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ یہ بیان ایم آئی ٹی کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے یہ نوٹیفکیشن نو اعلیٰ امریکی جامعات کو ارسال کیا گیا تھا جس میں کئی متنازع نکات شامل تھے، جیسے کہ غیر ملکی انڈرگریجویٹ طلبہ کی تعداد کو 15 فیصد تک محدود کرنا، داخلوں اور بھرتیوں میں نسل یا جنس کی بنیاد پر کسی فیصلے پر پابندی لگانا، اور جنس کی تعریف کو صرف حیاتیاتی بنیاد پر طے کرنا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جو ادارے ان ہدایات پر عمل نہ کریں وہ وفاقی مراعات سے محروم ہو سکتے ہیں، جب کہ عمل کرنے والے اداروں کو اضافی فنڈز دیے جائیں گے۔

ایم آئی ٹی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تعلیمی اداروں پر نظریاتی دباؤ بڑھانے کے لیے وفاقی فنڈز کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔

دیگر جامعات کا جائزہ

دوسری کئی جامعات، جن میں براؤن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ورجینیا، ڈارٹ ماؤتھ کالج، یونیورسٹی آف ایریزونا، یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور وینڈربلٹ یونیورسٹی شامل ہیں، نے کہا ہے کہ وہ ابھی انتظامیہ کی ہدایات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن نے کہا کہ وہ جامع پالیسی ردعمل کے لیے اپنی یونیورسٹی کی برادری سے مشاورت کر رہی ہیں۔ دوسری جانب یونیورسٹی آف ٹیکساس نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان یونیورسٹی یونٹس کی ازسرِنو تشکیل یا خاتمہ کیا جائے جو مبینہ طور پر قدامت پسند نظریات کے اظہار کو محدود کرتے ہیں، اور کلاسک لرننگ ٹیسٹ (CLT) کو ایس اے ٹی اور اے سی ٹی امتحانات کے متبادل کے طور پر قبول کرنے کی تجویز بھی شامل تھی—یہ وہ اقدام ہے جسے امریکی قدامت پسند حلقے سراہتے ہیں۔ تاہم نوٹیفکیشن میں لبرل نظریات کے لیے کسی متوازی تحفظ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جنوری میں ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کی انتظامیہ ان جامعات کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں وہ "لبرل” رجحان کا حامل سمجھتی ہے، خاص طور پر وہ ادارے جو فلسطين نواز سرگرمیوں، ماحولیاتی پالیسیوں اور تنوع کے فروغ جیسے پروگراموں میں فعال ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین