اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیخان یونس کا 85 فیصد حصہ ملبے میں تبدیل، شہر شدید تباہی...

خان یونس کا 85 فیصد حصہ ملبے میں تبدیل، شہر شدید تباہی سے دوچار
خ

    مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– خان یونس کی بلدیہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہر کا تقریباً 85 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے، جب کہ اندازاً چار لاکھ ٹن ملبہ سڑکوں اور محلوں سے ہٹانا باقی ہے۔

    میئر خان یونس نے ایک پریس کانفرنس میں تباہی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 300 کلومیٹر طویل واٹر نیٹ ورک مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جب کہ شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کا 75 فیصد حصہ شدید نقصان کا شکار ہے، جس سے شہریوں کے لیے صحت اور ماحول دونوں کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

    بلدیہ کو 3 لاکھ 50 ہزار ٹن سے زائد کوڑے کرکٹ کے انبار سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، جبکہ وسائل کی شدید کمی اور خطرناک حالات میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد محدود ہے۔

    میئر کے مطابق، فی الحال صرف نو بلدیاتی ٹیمیں فعال ہیں جو سڑکوں اور اہم راستوں کی صفائی پر مامور ہیں، لیکن ڈیزل ایندھن کی قلت ان کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

    انہوں نے جدید مشینری اور بھاری ملبہ ہٹانے والے آلات کے ساتھ ساتھ بجلی پیدا کرنے والے نئے جنریٹرز کی فوری فراہمی کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ حملوں کے دوران زیادہ تر مشینری یا تو تباہ ہو چکی ہے یا ناقابلِ استعمال ہو گئی ہے۔

    ٹرمپ کا "اسرائیل” اور مصر کا مجوزہ دورہ، غزہ منصوبے کے اگلے مراحل طے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق منصوبے کے اگلے مراحل پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ جلد "اسرائیلی” پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کے لیے تل ابیب جائیں گے، جس کے بعد ان کا اگلا پڑاؤ مصر ہوگا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی قیدیوں کی واپسی پیر کے روز متوقع ہے، جب کہ تقریباً 28 لاشوں کی بازیابی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

    ان کے مطابق، غزہ کی تعمیرِ نو بین الاقوامی مدد سے کی جائے گی، خصوصاً امیر ممالک کی مالی معاونت کے ذریعے۔

    غزہ شہر کی 83 فیصد عمارتیں تباہ، اقوامِ متحدہ کی تصدیق

    اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیلی جنگ نے غزہ شہر کو تباہ و برباد کر دیا ہے، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے شہر بھر میں تباہی کی وسیع نشاندہی ہوئی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے دفترِ برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کے شمالی حصے میں بہت سے لوگ عدمِ تحفظ کے باعث نقل مکانی نہیں کر پا رہے، جب کہ ہزاروں بے گھر فلسطینی کھلے آسمان تلے سو رہے ہیں اور خوراک و پناہ کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق، یو این سیٹلائٹ سینٹر کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف غزہ شہر میں 83 فیصد عمارتیں متاثر یا تباہ ہو چکی ہیں، جن میں 81 ہزار رہائشی یونٹس شامل ہیں۔

    منگل کے روز اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر دھماکے اور بمباری کی، جس سے متعدد محلوں کی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور سیکڑوں شہری محصور ہو گئے۔

    المیادین کے مطابق، قابض افواج نے جنوبی غزہ کے علاقے السبرا میں تین بکتر بند گاڑیوں میں بھاری دھماکہ خیز مواد نصب کر کے درجنوں گھروں کو اڑا دیا، جس سے کئی رہائشی بلاک ملبے کا ڈھیر بن گئے اور درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق، قابض فوج نے الشاطی مہاجر کیمپ سمیت متعدد علاقوں میں وسیع پیمانے پر انہدامی کارروائیاں کیں، جہاں سینکڑوں شہری تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی تنظیموں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر محاصرہ برقرار رہا تو انسانی صورتِ حال تباہ کن رخ اختیار کر سکتی ہے۔

    مقبول مضامین

    مقبول مضامین