اتوار, فروری 15, 2026
ہومنقطہ نظرتوافق شرم‌ الشیخ اور غزہ کی جنگ کا مستقبل

توافق شرم‌ الشیخ اور غزہ کی جنگ کا مستقبل
ت

مصر کے شہر شرم ‌الشیخ میں فلسطینی نمائندوں اور صہیونی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات بالآخر ایک ایسے توافق پر منتج ہوئے ہیں جس سے امید کی جا رہی ہے کہ دو سالہ قتل عام، تباہی اور جنگی جرائم کے بعد یہ نابرابر جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، دونوں فریقین تین بنیادی نکات پر مکمل طور پر متفق ہو چکے ہیں:

  1. قیدیوں کی رہائی اور تبادلہ: دونوں جانب کے اسیران کی آزادی اور تبادلے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے۔
  2. اسرائیلی فوج کا انخلا: صہیونی افواج کی غزہ کی بیشتر علاقوں سے واپسی پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
  3. انسانی امداد کی فراہمی: خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان کی غزہ میں بغیر رکاوٹ رسائی پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔

یہ نکات اگرچہ ابتدائی اور محدود ہیں، لیکن اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ فریقین کم از کم جنگ کے فوری انسانی بحران کو کم کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ توافق ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھ پائے گا یا صرف ایک عارضی جنگ‌بندی ثابت ہوگا؟

غزہ کے عوام کی خوشی اور خدشات

غزہ کے مظلوم مگر ثابت‌قدم عوام نے اس خبر کے اعلان کے ساتھ ہی — باوجود اس کے کہ وہ اب بھی صہیونی بمباری اور حملوں کے سائے میں ہیں — خوشی اور جشن کا اظہار کیا۔ ان کے لیے یہ توافق محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ دو سالہ ظلم و ستم کے مقابلے میں ایک تاریخی کامیابی اور مزاحمت کی علامت ہے۔

تاہم، اسی خوشی کے ساتھ ساتھ گہری تشویش اور بےاعتمادی کے جذبات بھی نمایاں ہیں۔ بہت سے شہریوں نے کھل کر کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں:

• اسرائیل ایک ناقابلِ اعتماد فریق ہے،

• اور کسی مضبوط ضمانت کے بغیر اس بات کی کوئی یقینی گنجائش نہیں کہ وہ دوبارہ جنگ چھیڑنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

یہ دوہرا احساس ایک طرف کامیابی کی خوشی، دوسری طرف دھوکے کے خطرے کا خوف — غزہ کے عوام کے طویل تجربے کا عکاس ہے، جنہوں نے بارہا دیکھاہے کہ صہیونی حکومت عارضی معاہدوں کو وقت حاصل کرنے اور نئی جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کرتی ہے۔

سابقہ تجربہ اور مستقبل کے خدشات

غزہ کے عوام کی محتاط امیدواری کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی بدعہدی کا تلخ تجربہ بھی ہے۔ سالِ رواں کے آغاز میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان ایک عارضی توافق طے پایا تھا جس کے نتیجے میں تقریباً 40 روزہ جنگ‌بندی (آتش‌بس) قائم رہی۔ تاہم، جیسے ہی اسرائیل نے اپنی فوجی تیاری مکمل کر لی، اس نے دوبارہ غزہ پر بھرپور یلغار کر دی، جس سے واضح ہو گیا کہ تل‌آویو کو جنگ کے خاتمے میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں۔غزہ کے عوام، جو اس جارح اور مجرمانہ فطرت سے دنیا کی کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ واقف ہیں، اسی تجربے کی بنیاد پر آئندہ کے حوالے سے نہایت محتاط اور حقیقت‌پسندانہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

استقامت کی فتح

تمام تر تباہی، جانی و مالی قربانیوں اور ناقابلِ تصور مصائب کے باوجود، ایک بات پر یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے:

غزہ نے مزاحمت، استقامت اور ایمان کے ذریعے میدانِ جنگ میں اخلاقی و سیاسی فتح حاصل کر لی ہے۔

یہ وہ فتح ہے جو نہ صرف صہیونی منصوبوں کو ناکام بناتی ہے بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھاتی ہے کہ ایک چھوٹی سی، محصور اور مظلوم قوم بھی اگر حق پر ہو تو طاقتور سے طاقتور دشمن کے مقابلے میں جھکنے سے انکار کر سکتی ہے۔

اصل چیلنج: مقاومت کا اسلحہ اور غزہ حکومت کا مستقبل

تاہم، جنگ‌بندی اور ابتدائی توافق کے بعد جو مسائل باقی رہ جاتے ہیں وہ نہایت پیچیدہ اور چیلنج‌برانگیز ہیں۔ ان میں دو سب سے اہم نکات یہ ہیں:

  1. مزاحمتی کے ہتھیار: اسرائیل کا اصرار ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہ مکمل طور پر غیر مسلح ہو جائیں، جبکہ فلسطینی فریق اسے اپنی وجودی بقا اور دفاعی حق قرار دیتا ہے۔
  2. غزہ حکومت کا مستقبل: جنگ کے بعد غزہ پر کس کی حکومت ہوگی؟ — یہ وہ مسئلہ ہے جس پر دونوں فریقوں کے درمیان گہرا اختلاف موجود ہے اور کسی مشترکہ حل تک پہنچنا نہایت دشوار دکھائی دیتا ہے۔

یہ دونوں مسئلے نہ صرف مستقبل کی مذاکراتی پیش رفت کو متاثر کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ آیا شرم‌الشیخ توافق پائیدار امن کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے یا صرف ایک عارضی سیاسی وقفہ ثابت ہوگا۔

صہیونی حکمتِ عملی: مذاکرات، پروپیگنڈا اور دھمکی کا امتزاج

صہیونی رژیم، امریکہ کی مکمل حمایت کے ساتھ، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دوہری حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے:

• ایک جانب وہ مذاکرات کی میز پر اپنے شرائط منوانے کی کوشش کر رہا ہے،

• اور دوسری جانب وہ میڈیا پروپیگنڈا، نفسیاتی دباؤ، اور دھمکی و خوف‌پھیلاؤ کے حربے استعمال کر رہا ہے تاکہ عالمی رائے عامہ اور فلسطینی عوام کو جھکنے پر مجبور کر سکے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں صہیونی حکومت نے غزہ میں کسی بھی حد سے تجاوز کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ اس نے نہ صرف وسیع پیمانے پر شہری بستیوں کو تباہ کیا بلکہ اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گاہوں، اور بنیادی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا — اور لاکھوں بےگناہ انسانوں کی جان لی۔

اب صورتحال اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ ماہرین کے مطابق، اگر اسرائیل اس جنگ کو جاری بھی رکھے تو اسے کوئی نیا یا فیصلہ کن فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

• اس کی عسکری طاقت اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے،

• فلسطینی مزاحمت آج بھی قائم ہے،

• اور عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہو چکی ہے۔

اس طرح جنگ کے تسلسل سے نہ تو صہیونی حکومت کے اسٹریٹجک مقاصد پورے ہوں گے اور نہ ہی فلسطینی عزم و مزاحمت کو توڑا جا سکے گا۔

ناپایدار صوتحال اور ایمان کی فتح

آخر میں اس حقیقت پر زور دینا ضروری ہے کہ موجودہ صورتِ حال نہایت ناپایدار اور انتہائی نازک ہے۔

امریکی حکومت اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص سیاسی مظاہروں اور انتخابی اہداف کے حصول کی کوشش میں ہیں، جبکہ نتانیاهو کی حکومت — جو پہلے ہی دس ہزاروں غزہ کے شہریوں کے قتلِ عام اور عالمی سطح پر مکمل بدنامی کا سامنا کر چکی ہے — اب اس میدان میں کھونے کے لیے کچھ نہیں رکھتی۔

تاہم تمام تر سازشوں، فوجی دباؤ اور وحشیانہ بمباریوں کے باوجود، ایک حقیقت پوری قوت سے ابھر کر سامنے آئی ہے:

غزہ کے عوام اور مزاحمت کی آج کی سربلندی اور فتح ایمان، توکل اور صبر کا نتیجہ ہے — وہ صبر جسے 200 ہزار ٹن بم بھی شکست نہ دے سکے۔

یہی استقامت اور یقین وہ قوت ہے جو نہ صرف دشمن کے منصوبوں کو ناکام بناتی ہے بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھاتی ہے کہ حق کی بنیاد پر کھڑے رہنے والی قوم کو کوئی طاقت مٹا نہیں سکتی۔

غزہ کی مزاحمت آج صرف ایک جغرافیائی جنگ نہیں جیت رہی بلکہ وہ ارادے، عقیدے اور عزت کی جنگ بھی سر کر رہی ہے۔

حصہ دوئم (جنگ بندی کے بعد)

ایسے حالات میں جب مصر کے شہر شرم‌الشیخ میں غزہ میں امن کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے اتفاق ہو چکا ہے اور اس مرحلے کے ابتدائی اقدامات بھی اٹھائے جا چکے ہیں، تو گزشتہ دو سالوں میں غزہ کی خونریز جنگ کے نتائج اور پہلوؤں پر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ یہ جنگ نہ صرف حالیہ دہائیوں کے سب سے خونریز انسانی بحرانوں میں سے ایک ہے بلکہ عالمی عوامی رائے میں ایک بنیادی تبدیلی اور اسرائیل کے خلاف نفرت میں اضافے کا سنگِ میل شمار ہوتی ہے۔

یہ تبدیلی رسمی سیاست کے راستے سے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور اسرائیل کے روایتی تبلیغاتی نظام جسے "ہسبارا” کہا جاتا ہے، کے انہدام کے ذریعے وجود میں آئی۔ وہ ڈھانچہ جو برسوں بھاری بجٹ کے ساتھ اسرائیل کے جرائم کو "جائز دفاع” کی کہانی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر بچوں کے قتل، شہری بنیادی ڈھانچوں کی تباہی اور غزہ کے عوام کے مکمل محاصرے کی براہِ راست تصاویر اور ویڈیوز کے سامنے نہایت کمزور اور ناقابلِ اعتبار ہو گیا۔ اسرائیل کے خلاف عالمی نفرت میں اضافہ اسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی ادارے اس المیے کی وسعت کو واضح طور پر دکھاتے ہیں: 67 ہزار سے زائد شہداء اور 1 لاکھ 69 ہزار زخمی، جن میں اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں پر بمباری اور پانی، بجلی، خوراک اور ایندھن کی مکمل بندش شامل ہے۔ یہی طرزِ عمل باعث بنا کہ اسرائیل کو جنوبی افریقہ کی جانب سے نسل کشی کے الزام میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔

دنیا کی عوامی رائے میں آنے والی تبدیلیاں اسرائیل کے بارے میں اس بیانیہ جاتی رخ کے پلٹاؤ کی تصدیق کرتی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے 2025 کے ایک سروے کے مطابق 24 میں سے 20 ممالک میں عوام کی اکثریت کا اسرائیل کے بارے میں منفی نقطۂ نظر ہے؛ جن میں ترکی میں 93 فیصد، انڈونیشیا میں 80 فیصد، ہالینڈ میں 78 فیصد اور اسپین و سویڈن میں 75 فیصد شامل ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ میں، جو اسرائیل کا اسٹریٹجک اتحادی ہے، اس رژیم کے بارے میں منفی رائے 2022 میں 42 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 53 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ڈیموکریٹس میں 69 فیصد اور 30 سال سے کم عمر نوجوانوں میں 71 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

نئی نسل، خصوصاً مغرب میں، میڈیا کی فلٹر سے گزر کر اور جنگ کی حقیقی تصاویر تک براہِ راست رسائی کے ذریعے اسرائیل کو مظلوم نہیں بلکہ قبضے، نسلی امتیاز اور اپارتھائیڈ کا عامل سمجھتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس بھی کھل کر اس تنہائی کی تصدیق کرتی ہیں۔ روزنامہ یدیعوت آحارانوت نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں لکھا کہ غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد اب ہم اسرائیل کے خلاف نفرت کے ایک انقلابی مرکز میں موجود ہیں، جو جتنا جنگِ «شمشیرهای آهنین» آگے بڑھتی گئی، اتنا ہی وسیع تر ہوتا گیا۔ فلسطین کے لیے امدادی بیڑوں جیسے صمود کی روانگی اور حتیٰ کہ اسرائیل کے مغربی اتحادیوں کے درمیان بھی فلسطین کو تسلیم کیے جانے کی لہر، اس صہیونی رژیم کے خلاف عالمی نفرت میں اس اضافے کی بھرپور تصدیق کرتی ہے۔

اب جبکہ جنگ اس مرحلے پر رک چکی ہے، صہیونی رژیم عوامی رائے، سفارتکاری اور عالمی سیاست کے میدان میں ایک تاریخی تنہائی کا سامنا کر رہی ہے؛ ایسی تنہائی جو ماضی کے برعکس اس بار ایک واضح اور ناقابلِ انکار حقیقت میں جڑی ہوئی ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جس کا اعتراف حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکہ کے صدر اور غزہ کی جنگ میں نیتن یاہو کے اہم ترین حامی، نے بھی کیا ہے اور اس سلسلے میں صہیونی رژیم کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

(یہ تحریر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے دفتر سے شائع ہونے والے اداریہ سے ماخوز ہے۔)

مقبول مضامین

مقبول مضامین