مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– انڈونیشیا نے جکارتہ میں ہونے والے عالمی جمناسٹک مقابلوں میں شرکت کے لیے آنے والے اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ فلسطین کے ساتھ قومی یکجہتی اور عوامی مخالفت کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
عالمی فنّی جمناسٹک چیمپئن شپ 19 اکتوبر سے جکارتہ میں شروع ہونی تھی، جس میں 86 ممالک کے کھلاڑیوں نے شرکت کی رجسٹریشن کرائی تھی۔ ان میں اسرائیل کا دستہ بھی شامل تھا، جس کے اراکین میں 2020 کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ آرتِم ڈولگوپیَت بھی شامل تھے۔
جمعے کو انڈونیشی حکومت نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے قبل ملک بھر میں اسرائیلی وفد کی شرکت کے خلاف شدید عوامی ردِعمل اور احتجاجی مطالبات سامنے آئے تھے۔
انڈونیشین جمناسٹک فیڈریشن کی چیئرپرسن اِتا یولِیاتی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بین الاقوامی جمناسٹک فیڈریشن (FIG) نے فون پر حکومت کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فیڈریشن نے ابتدائی طور پر چھ اسرائیلی کھلاڑیوں کے لیے اسپانسرشپ لیٹر جمع کرایا تھا، تاہم بعد میں حکومت کی پالیسی کے مطابق اسے واپس لے لیا گیا۔
فی الوقت FIG کی جانب سے کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
فلسطین سے اظہارِ یکجہتی
انڈونیشیا کے وزیرِ قانون یوسرِل احزا مہندرا نے اعلان کیا کہ اسرائیلی ٹیم کو کسی بھی صورت میں ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
مہندرا کے مطابق یہ اقدام صدر پرابوو سوبیانتو کی ہدایت کے عین مطابق ہے، جنہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے حالیہ خطاب کے دوران غزہ پر اسرائیل کے جاری حملوں کی سخت مذمت کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کھلاڑیوں کی میزبانی انڈونیشیا کی دیرینہ خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔
جکارتہ کے گورنر پرامونو انونگ نے بھی اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی آمد عوامی غم و غصے اور جذباتی اضطراب کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق، غزہ میں نسل کشی کے اس ماحول میں ان کی موجودگی عوامی اشتعال کو بڑھا دے گی۔
انڈونیشیا کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی، مجلسِ علمائے انڈونیشیا (MUI)، نے بھی اسرائیلی ٹیم کے اخراج کا مطالبہ کیا۔ MUI کے سیکریٹری جنرل امیرسیاح تمبونان نے کہا کہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو شرکت سے روک کر ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نوآبادیاتی نظام کی تمام صورتوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
ممکنہ ردعمل اور بین الاقوامی اثرات
انڈونیشیا نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کے کسی بھی ممکنہ نتیجے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انڈونیشین اولمپک کمیٹی کے سربراہ راجا ساپتا اوکتوہاری نے کہا کہ مقابلوں کے بعد ہم نتائج کا جائزہ لیں گے۔
انڈونیشیا نے 2036 کے اولمپک گیمز کی میزبانی کی خواہش ظاہر کر رکھی ہے، تاہم اسرائیل کے حوالے سے اس کا مؤقف اس بولی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے عالمی ردِعمل کا حصہ ہے، جو غزہ میں جاری نسل کشی کے بعد مزید شدت اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں اطالوی سائیکل ریس میں اسرائیلی سائیکلنگ ٹیم اسرائیل پریمیئر ٹیک کو احتجاج کے خدشے کے باعث خارج کر دیا گیا، جس کے بعد ٹیم نے اپنے قومی شناختی لیبل کو ہٹا دیا۔ اسی طرح اسرائیل اور اٹلی کے درمیان ہونے والے آئندہ فٹبال ورلڈ کپ کوالیفائر میچ کے دوران بھی بڑے پیمانے پر فلسطین کے حق میں مظاہروں کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب انڈونیشیا نے اسرائیلی وفود کی میزبانی سے انکار کیا ہو۔ 2023 میں فیفا انڈر-20 ورلڈ کپ کی میزبانی بھی انڈونیشیا سے واپس لے لی گئی تھی کیونکہ ملک میں اسرائیلی ٹیم کی شمولیت کے خلاف سخت سیاسی مخالفت سامنے آئی تھی۔ اس پالیسی کی جڑیں 1962 کے ایشیائی کھیلوں تک جاتی ہیں، جب جکارتہ نے اسرائیل اور تائیوان دونوں کو مقابلوں میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
مرکزِ اقتصادی و قانونی مطالعات (CELIOS) کے محقق محمد ذوالفقار رحمٰت کے مطابق، یہ مؤقف کسی تنگ نظری یا علیحدگی پسندی کا اظہار نہیں بلکہ انڈونیشیا کے اس اصول کی علامت ہے کہ کوئی بھی کھیلوں کا ایونٹ کسی نسل پرست ریاست کو جواز فراہم نہیں کر سکتا۔

