مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – غزہ کی پٹی میں اس وقت، اسرائیلی ڈرونز کی گونج کے ساتھ خوشی کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں، کیونکہ فلسطینیوں کو اطلاع ملی ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جو چند گھنٹوں میں نافذ العمل ہو جائے گا۔
اسرائیل کی جانب سے دو برس طویل نسل کشی کی جنگ کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔
شمالی غزہ کے علاقے بیت حانون سے بے گھر ہونے والے 24 سالہ بشار حامد نے مڈل ایسٹ آئی سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس خبر سے بے حد خوش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صبح سے ہم خوشی میں سرشار ہیں اور لمحہ بہ لمحہ انتظار کر رہے ہیں کہ خدا کے فضل سے معاہدہ نافذ ہو۔ ہم صرف اپنے گھروں کو لوٹنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ جنگ بندی جنوری میں شروع ہوئی تھی، جس کے دوران فلسطینیوں کو اپنے علاقوں میں واپسی کی اجازت ملی، مگر مارچ میں اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی توڑ دی۔ حامد نے اعتراف کیا کہ لوگوں میں یہ خدشہ برقرار ہے کہ کہیں یہ جنگ دوبارہ نہ بھڑک اٹھے، جیسا کہ پچھلی بار ہوا تھا۔
ایک اور بے گھر فلسطینی ایاد الجیش نے بھی اسی قسم کی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں لیکن خوفزدہ بھی۔
ان کے بقول، وہ اپنی فیملی کو لے کر شمال واپس نہیں جا سکتے کیونکہ اسرائیل، خاص طور پر نیتن یاہو، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی لیے یہ خوف حقیقت بن کر قائم ہے۔ یہ سب اسرائیل کا انتقام ہے، اور کچھ نہیں۔
اس کے باوجود الجیش پرعزم ہیں کہ وہ اور ان کے ہم وطن فلسطینی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوں گے اور اس تباہ حال علاقے کو ازسرنو آباد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ واپس جا کر اپنے گھر دوبارہ تعمیر کریں گے۔ ان کے مطابق، فلسطینی عوام کی موجودگی ہی غزہ میں زندگی کی علامت ہے، چاہے عمارتیں باقی نہ بھی رہیں۔
ایاد نے مزید کہا کہ ان کی پوری زندگی غزہ کی پٹی سے وابستہ ہے، حتیٰ کہ موت کے بعد بھی۔ ان کے بقول، فلسطینی اور غزہ کا رشتہ ایسا ہے جیسے زیتون اور زعتر کا۔
امیدیں اور خواب
اگرچہ حامد جانتے ہیں کہ فی الحال بیت حانون واپسی ممکن نہیں، لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ جلد اپنے علاقے کو دیکھ سکیں گے۔ اس وقت وہ وسطی غزہ کے النصیرات علاقے میں مقیم ہیں اور اپنی فیملی کے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی سرحدی گزرگاہیں کھلیں گی، وہ اپنی سائیکل پر سوار ہو کر اپنے خاندان کے لیے بہتر رہائش کی تلاش میں نکلیں گے۔
پیشہ ور فٹبالر رہنے والے حامد نے جنگ کے دوران اپنے اہل خانہ کے لیے روزگار کے مختلف چھوٹے موٹے کام کیے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب فٹبال باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی شخص اپنے خوابوں کے لیے کوشش نہ کرے تو وہ بکھر جاتے ہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خواب نہیں بھولے۔
ان کے مطابق، وہ ابھی صرف 24 سال کے ہیں، جسمانی طور پر فٹ ہیں اور ان کے عزائم بدستور قائم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح وہ اپنے والدین سے کہہ رہے تھے کہ خدا کے فضل سے یہ سب ختم ہو تاکہ وہ دوبارہ کھیل میں لوٹ سکیں۔
دو سال قبل، ایتدال ابو حلیمہ کو غزہ کے پرانے شہر کے زیتون محلے سے نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔
13 سالہ بچی نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ وہ اسرائیلی بمباری کے دوران اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔
وہ اپنے گھر، دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کے لیے بیتاب ہیں، حالانکہ انہیں اندازہ نہیں کہ واپسی پر اپنے محلے میں کیا دیکھنے کو ملے گا۔
ابو حلیمہ کو نسل کشی کے دوران کئی بار بے گھر ہونا پڑا، اور ان کی تعلیم مکمل طور پر متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پڑھائی اور اسکول سے محبت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دن واپس آئیں، ہمیں ان کی بہت یاد آتی ہے۔
تقریباً غزہ کی پوری آبادی — یعنی 22 لاکھ افراد — نسل کشی کے دوران کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکی ہے۔
شمالی غزہ کے تفاح محلے کی ام سامر النزیح کو گزشتہ دو برسوں میں سات مرتبہ نقل مکانی کرنی پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ بے دخلی اتنی طویل ہوگی۔ ان کے مطابق، ان کی پوری گلی ابتدا سے انتہا تک مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بن چکی ہے۔
بار بار کی مشکلات اور اسرائیلی کوششوں کے باوجود کہ فلسطینیوں کو غیر ممالک کی طرف دھکیلا جائے، النزیح کی غزہ سے وابستگی میں کوئی کمی نہیں آئی — اور یہی عزم غزہ کے ہر فلسطینی میں مشترک ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر مرنا پسند کریں گی لیکن باہر نہیں جائیں گی، چاہے صرف ایک دن کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔

