پیر, فروری 16, 2026
ہومپاکستانپاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر میں 46 فیصد بڑھ کر 3.3 ارب...

پاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر میں 46 فیصد بڑھ کر 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان کا تجارتی خسارہ ستمبر 2025 میں 46 فیصد کے اضافے کے ساتھ 3.34 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے، جس کی بڑی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں خسارہ 2.29 ارب ڈالر تھا۔ اس بار درآمدات 14 فیصد بڑھ کر 5.85 ارب ڈالر ہو گئیں جبکہ برآمدات 11.7 فیصد گر کر 2.5 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ اگست 2025 کے مقابلے میں بھی خسارے میں 16.3 فیصد اضافہ ہوا۔

مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر) میں تجارتی خسارہ 32.9 فیصد بڑھ کر 9.37 ارب ڈالر رہا۔ اس عرصے میں درآمدات 13.5 فیصد بڑھ کر 16.97 ارب ڈالر ہوئیں جبکہ برآمدات میں 3.8 فیصد کمی آئی اور یہ 7.6 ارب ڈالر رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا خسارہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتا ہے، روپے کی قدر کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور قرضوں کی ادائیگی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی بیرونی مالی امداد پر انحصار کر رہا ہے۔

پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں سروسز ٹریڈ کا خسارہ بھی 21.9 فیصد بڑھ کر 437 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔ اگرچہ خدمات کی برآمدات 8.4 فیصد بڑھیں لیکن درآمدات میں 13.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ مالی سال میں خدمات کے تجارتی خسارے میں کمی آئی تھی، مگر موجودہ رجحان دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر انحصار ٹیکسٹائل اور زراعت پر ہے جو مجموعی سالانہ 30–31 ارب ڈالر کی برآمدات کا بڑا حصہ ہیں۔ یہ محدود ڈھانچہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور طلب میں کمی سے شدید متاثر ہوتا ہے۔

سابق مشیر وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کم پیچیدہ اور کموڈیٹی پر مبنی ماڈل سے نکل کر ہائی ویلیو اور نالج بیسڈ سیکٹرز کی طرف جانا ہوگا۔ ان کے مطابق توانائی کی بہتر فراہمی، لاجسٹکس میں بہتری، مارکیٹ تک آسان رسائی، مالی سہولیات اور جدید مہارتوں سے آراستہ افرادی قوت کے بغیر برآمدات کو مسابقتی بنانا ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، پراسیسڈ فوڈ، برانڈڈ زرعی مصنوعات، لائٹ انجینئرنگ اور آئی ٹی/بی پی او جیسے شعبوں میں تنوع پیدا کرنا ہوگا تاکہ برآمدات میں پائیداری اور معیشت میں استحکام لایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین