قاہرہ(مشرق نامہ): مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ جنگ بندی منصوبہ کئی "بڑی خامیوں” کا حامل ہے جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے پیرس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مصر اس سلسلے میں قطر اور ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ حماس کو اس منصوبے پر مثبت ردعمل دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نفاذ، بالخصوص غزہ کی عبوری مدت کے دوران گورننس اور سیکیورٹی انتظامات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
عبدالعاطی نے کہا کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو یہ منصوبہ زمینی سطح پر نافذ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کی شرکت ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے منصوبے کو مسترد کر دیا تو خطے کی صورتحال نہایت سنگین ہو جائے گی اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مصر کسی بھی صورت غزہ کے شہریوں کی جبری بے دخلی کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب مصر کے وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی نے کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے میں بعض اصول شامل ہیں جو ہمیشہ مصر کے مؤقف کے مطابق رہے ہیں، جیسے فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ یا مغربی کنارے کے الحاق کی ممانعت، جنگ بندی کی ضرورت، دونوں جانب سے قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی، اور غزہ کی تعمیرِ نو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اصل امتحان منصوبے کی تفصیلات میں پوشیدہ ہے۔
امریکی منصوبے کے مطابق غزہ کو اسلحہ سے پاک زون بنایا جائے گا، جہاں ایک عبوری ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ادارہ کرے گا جس کی قیادت امریکی صدر کے ہاتھ میں ہوگی۔ منصوبے میں شرط رکھی گئی ہے کہ حماس 72 گھنٹوں کے اندر تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے، جس کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔ تاہم اس منصوبے میں اسرائیلی فوج کے انخلا یا انسانی امداد کی ترسیل کے لیے کوئی واضح ٹائم فریم شامل نہیں ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ غزہ میں قحط، بیماری اور تباہی کی صورت حال تیزی سے سنگین ہو رہی ہے۔

