اسلام آباد(مشرق نامہ)
:کئی برس سے غیر فعال پشاور بلاک کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے بین الاقوامی اور مقامی انرجی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبہ (Joint Venture) تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تیل و گیس کی تلاش اور ترقیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکیں۔
بدھ کو وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ہائیکاربیکس امریکن انرجی کے سی ای او پیئرس آن تھینک اور ماری انرجیز کے سی ای او فہیم حیدر سے ملاقات کی۔ اس دوران ماری انرجیز نے ہائیکاربیکس اور فاطمہ پٹرولیم کے ساتھ مل کر پشاور بلاک میں سرمایہ کاری اور ایکسپلوریشن کے منصوبے پر بریفنگ دی۔
وزیر پٹرولیم نے اس اقدام کو ملک میں مقامی تیل و گیس پیداوار میں اضافے کی جانب مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیداری اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔
ہائیکاربیکس کے سی ای او نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ان کی کمپنی پشاور بلاک کے علاوہ مزید تین بلاکس میں بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ اشتراک پاکستان کے توانائی منظرنامے پر اہم اثرات ڈالے گا۔

