مظفرآباد/اسلام آباد(مشرق نامہ):آزاد جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے جاری ہڑتال کے تیسرے روز پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 9 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ 172 پولیس اہلکاروں اور 50 شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ہڑتال کے باعث مظفرآباد، میرپور، پونچھ، نیلم، بھمبر اور پلندری سمیت بیشتر شہروں میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہوگیا، بازار بند اور سڑکیں بلاک رہیں جبکہ انٹرنیٹ خدمات بھی محدود کردی گئیں۔
ڈیھری کوٹ میں مسلح افراد کے حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ جاں بحق اہلکاروں میں کانسٹیبل خورشید، کانسٹیبل جمیل اور کانسٹیبل طاہر رفی شامل تھے۔
JAAC نے احتجاج کے ذریعے مراعات یافتہ طبقے کے اختیارات ختم کرنے، مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستیں ختم کرنے، کوٹہ سسٹم کے خاتمے، مفت و یکساں تعلیم، مفت علاج، عدالتی اصلاحات اور ایک بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔
AJK حکومت کا کہنا ہے کہ ان میں سے 90 فیصد مطالبات پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، تاہم کچھ معاملات آئینی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق اور وفاقی وزراء نے JAAC قیادت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ تشدد سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

