اسلام آباد/مظفرآباد(مشرق نامہ): آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں احتجاجی تحریک کے دوران پرتشدد واقعات کے بعد حکومت نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ بدھ کے روز جھڑپوں میں تین پولیس اہلکار شہید اور چھ مظاہرین جاں بحق ہوئے، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
صورتحال اور جھڑپیں
- احتجاجی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے مطالبات پر شروع ہوئی تھی، جو گزشتہ ہفتے حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد شدت اختیار کر گئی۔
- نیلم پل ایک بار پھر جھڑپوں کا مرکز بنا، جہاں پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے رہے۔ مظاہرین نے پتھراؤ کیا، پولیس نے آنسو گیس اور براہ راست فائرنگ کی۔
- مواصلاتی نظام بند ہونے کے باعث ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
- مظفرآباد میں بیشتر دکانیں، ہوٹل اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی، سڑکیں ملبے اور رکاوٹوں سے بھری پڑی تھیں۔
حکومت کا مؤقف
- اے جے کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 90 فیصد مطالبات مان لیے گئے ہیں، لیکن پناہ گزینوں کے لیے مختص نشستیں ختم نہیں کی جا سکتیں کیونکہ یہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کے تناظر میں اہم ہیں۔
- انہوں نے پرتشدد مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
“تشدد صرف بحران کو بڑھائے گا، مسائل کا حل مذاکرات میں ہے۔” - وفاقی وزرا طارق فضل چوہدری اور انجینئر امیر مقام نے بھی تصدیق کی کہ بیشتر مطالبات مان لیے گئے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کی ضمانت دی گئی تھی۔
اپوزیشن اور دیگر ردعمل
- جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے وزیر داخلہ سے رابطہ کر کے ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی اور زور دیا کہ طاقت کے استعمال کی بجائے انصاف کے اصولوں پر مسئلے کو حل کیا جائے۔
- انہوں نے حکومتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
آئندہ لائحہ عمل
- وزارت داخلہ نے آج (جمعرات) اسلام آباد میں اہم اجلاس طلب کیا ہے تاکہ بگڑتی صورتحال کو قابو کرنے کے اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

