پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیعراق کی اسرائیلی دھمکیوں کی مذمت، شہریوں کے دفاع کا عزم

عراق کی اسرائیلی دھمکیوں کی مذمت، شہریوں کے دفاع کا عزم
ع

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر کو ناقابل قبول دھمکیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی عراقی شہری پر حملہ پورے ملک کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

نیویارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد حسین نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے فورم سے دیے گئے یہ بیانات عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور عراقی عوام کی توہین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغداد ان تمام اسرائیلی دھمکیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے سیاسی و سفارتی سطح پر ہر ممکن ردعمل دے گا۔

نیتن یاہو کی تقریر کے دوران درجنوں سفارتی وفود نے بطور احتجاج اجلاس ہال چھوڑ دیا۔ اپنی تقریر میں نیتنیاہو نے نہ صرف عراق میں مزاحمتی گروہوں کو براہِ راست دھمکیاں دیں بلکہ غزہ میں "کام مکمل کرنے” کے عزم کا اظہار کیا اور ان ممالک پر بھی تنقید کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔

عراقی حکام متعدد بار متنبہ کر چکے ہیں کہ اسرائیلی اشتعال انگیزی خطے کے لیے خطرناک نتائج لا سکتی ہے۔ مارچ میں فواد حسین نے انکشاف کیا تھا کہ بغداد نے اسرائیل کا ایک منصوبہ ناکام بنایا جس کے تحت عراق کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا بلکہ محض مؤخر ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کے بیانات خطے میں وسیع تر محاذ آرائی کو جواز فراہم کرنے اور مزاحمتی محاذ سے وابستہ گروہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہیں۔ عراق کے لیے یہ دھمکیاں نہ صرف داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکانے کا ذریعہ بھی ہیں۔

فواد حسین نے زور دیا کہ عراق عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کا مقابلہ کیا جا سکے، اور واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کو عراقی خودمختاری اور ملک کی سالمیت پر براہِ راست حملہ سمجھا جائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین