مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتنیاہو کے اتحادیوں میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
نتنیاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے نہیں نکلے گی، حالانکہ ٹرمپ کے منظور شدہ "امن منصوبے” میں فوجی انخلا کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا منصوبہ، جو پیر کو سامنے آیا، میں ایک نقشہ شامل ہے جس میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے تین مراحل دکھائے گئے ہیں، جو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد عمل میں آنے تھے۔
نقشے میں وقت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا، تاہم تیسرے مرحلے میں فوج کے غزہ کے کنارے ایک "سکیورٹی بفر زون” میں منتقل ہونے کا ذکر تھا۔
منصوبے کے مطابق اسرائیلی فوج بتدریج غزہ کی زمین کو ایک "بین الاقوامی استحکام فورس” کے حوالے کرے گی، یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غزہ سے نکل جائے، سوائے اس "سکیورٹی پَریمیٹر” کے جو اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک غزہ کو دوبارہ ابھرنے والے "دہشت گرد خطرے” سے محفوظ قرار نہ دے دیا جائے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضہ یا الحاق نہ کرنے کی شق نے نتنیاہو کے اتحادیوں میں پہلے ہی اشتعال پیدا کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے اسے "غداری” قرار دیا۔
اپنے عبرانی زبان کے ایک ویڈیو پیغام میں نتنیاہو نے "امن منصوبے” کو اسرائیل کی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس نے حماس کو تنہا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے ہمیں تنہا کرنے کے بجائے ہم نے بازی پلٹ دی اور اسے تنہا کر دیا۔ اب ساری دنیا حماس پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ہماری شرائط مانے: تمام یرغمالیوں کی رہائی، جبکہ [اسرائیلی فوج] پٹی کے زیادہ تر حصے میں موجود رہے گی۔
نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کو بھی مسترد کر دیا۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو واشنگٹن میں کیمروں کے سامنے ہاں کہتے ہیں، اور واپسی پر کہتے ہیں کہ یہ ابھی نہیں ہونا چاہیے۔
ٹرمپ کے پیش کردہ اس منصوبے کا خیرمقدم برطانیہ، جرمنی اور کئی عرب ریاستوں نے کیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی (پی اے)، جس سے توقع ہے کہ ایک "اصلاحاتی عمل” کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالے گی، نے بھی ٹرمپ کی "خلوص نیت” کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
متضاد مؤقف
نیتن یاہو کی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت ٹرمپ کے منصوبے سے متصادم ہے۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ جب غزہ کی تعمیر نو آگے بڑھے اور پی اے کا اصلاحاتی پروگرام سنجیدگی سے نافذ ہو تو اس وقت فلسطینی عوام کی خود ارادیت اور ریاست کے قابلِ اعتبار راستے کے لیے حالات میسر آ سکتے ہیں، جو ان کی دیرینہ خواہش ہے۔
اسی دوران منگل کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ میں فجر سے اب تک کم از کم 30 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، الجزیرہ نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔
شہدا میں کم از کم 15 وہ فلسطینی شامل ہیں جو وسطی غزہ میں امداد کے ایک مرکز کے قریب جمع تھے، جیسا کہ العودہ اور الاقصی اسپتالوں نے بتایا۔
وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح کے مغرب میں ایک گھر پر اسرائیلی بمباری میں چھ فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
خان یونس کے قریب بے گھر افراد کے ایک خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہوئے۔

