پیر, فروری 16, 2026
ہومپاکستاناستعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت، ایس آر او جاری

استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت، ایس آر او جاری
ا

اسلام آباد(مشرق نامہ): وزارتِ تجارت نے اکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلے کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دیتے ہوئے اس حوالے سے ایس آر او جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان نے مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر تمام مقداری پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

ابتدائی طور پر پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے گی، جو ماحولیاتی اور حفاظتی معیار پر پورا اترتی ہوں۔ جولائی 2026 کے بعد پانچ سالہ حد بھی ختم کر دی جائے گی۔

وزارتِ تجارت نے بتایا کہ استعمال شدہ گاڑیوں پر ٹیرف ریٹ نئی گاڑیوں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہوں گے، تاہم یہ شرح ہر سال 10 فیصد کم کی جائے گی اور 2029-30 تک صفر پر آ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی ٹیرف پالیسی بورڈ نے بھی پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی منظوری دی ہے، جو جون 2026 تک برقرار رہے گی اور بعد ازاں بتدریج ختم ہو جائے گی۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) حفاظتی اور ماحولیاتی اقدامات کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے، جن میں پری اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن شامل ہوگا۔ وزارتِ صنعت نے زور دیا کہ مجوزہ "موٹر وہیکل انڈسٹری ڈیولپمنٹ ایکٹ 2025” کو پارلیمنٹ سے جلد منظور کرایا جائے تاکہ درآمدی پالیسی کو قانونی فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔

مقامی آٹو انڈسٹری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کمرشل امپورٹ کے نتیجے میں لوکل مینوفیکچرنگ شدید متاثر ہو گی اور روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے شفافیت بڑھے گی، عالمی معیارات کے مطابق گاڑیاں دستیاب ہوں گی اور صارفین کو بہتر انتخاب ملے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین