منیلا (مشرق نامہ): بدھ کو حکام نے بتایا کہ فلپائن کے وسطی حصے میں آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 69 ہوگئی ہے۔ حکومت نے بچ جانے والوں کی تلاش اور بجلی و پانی کی فراہمی کی بحالی کے لیے ایجنسیوں کو متحرک کردیا ہے۔
سیبو صوبے کے شمالی علاقے بوگو شہر میں اسپتال مریضوں سے بھر گیا ہے، یہ مقام منگل کی رات تقریباً 10 بجے ساحل کے قریب آنے والے زلزلے کے مرکز کے قریب تھا۔
علاقائی سول ڈیفنس کی اطلاعاتی افسر جین اباپو نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد صوبائی ڈیزاسٹر آفس کے اعداد و شمار پر مبنی ہے اور اس کی مزید تصدیق کی جائے گی۔ حکام کے مطابق 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے متاثرین کو فوری امداد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وزرا براہِ راست متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
سیبو، جو فلپائن کا ایک بڑا سیاحتی مقام ہے اور 34 لاکھ کی آبادی رکھتا ہے، زلزلے سے متاثر ہوا، تاہم ملک کا دوسرا مصروف ترین ایئرپورٹ میکتان-سیبو انٹرنیشنل فعال رہا۔
شدید متاثرہ قصبے سان ریمیگیو میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تاکہ ریلیف میں تیزی لائی جا سکے۔ نائب میئر نے خوراک، پانی اور ریسکیو مشینری کی فراہمی کی اپیل کی۔
انہوں نے ریڈیو کو بتایا: ’’بارش تیز ہے، بجلی بند ہے اور پانی کی شدید قلت ہے کیونکہ لائنیں زلزلے سے تباہ ہوگئی ہیں۔‘‘
قریب کے علاقے پیلار میں ایک مقامی شخص نے بتایا کہ زلزلے کے وقت ان کا خاندان سو رہا تھا، ’’میں نے سب کو جگایا اور ہم سب باہر نکل آئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جھٹکوں کے بعد سمندر کا پانی پیچھے ہٹتا ہوا دیکھا۔
مقامی میڈیا نے عمارتوں اور سو سال پرانی چرچ کے گرنے کی ویڈیوز بھی جاری کیں۔
سان ریمیگیو میں ایک اسپورٹس کمپلیکس کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا، جہاں باسکٹ بال کھیلتے ہوئے کئی افراد ہلاک ہوگئے۔
زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ 6 شدت کے متعدد آفٹر شاکس بھی آئے۔ حکام کے مطابق زلزلے کے بعد سونامی کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ فلپائن بحرالکاہل کے ’’رِنگ آف فائر‘‘ میں واقع ہے، جہاں آتش فشانی اور زلزلے عام ہیں۔ رواں سال جنوری میں دو بڑے زلزلے آئے تھے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، جبکہ 2023 میں آنے والے 6.7 شدت کے زلزلے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

