اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارت اور اس کے ریاستی اداروں، بالخصوص فوج کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارے انتہاپسند سیاسی نظریات اور ہندوتوا قوم پرستی کے زیرِ اثر کام کر رہے ہیں۔
5 ستمبر کو ایک جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ دونوں ایٹمی طاقت پڑوسی ممالک کے درمیان دیرینہ تنازع بدستور موجود ہے اور جنگ بندی کے باوجود بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے وہ مسئلہ کشمیر ہو، بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی ہو یا ہندوتوا انتہاپسندی کا بڑھتا ہوا رجحان، یہ تنازعات بدستور برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کو آگے بڑھ کر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرنا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر عقلی رویہ، اسٹریٹجک تکبر اور متکبرانہ سوچ کامیاب نہیں ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بغاوت کا نہیں بلکہ بھارت کی مدد سے منظم کیے گئے "براہِ راست دہشت گردی” کے عمل کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر دہشت گردی کے واقعے کے پیچھے بھارتی حمایت کارفرما ہے۔ ان کے مطابق، اسلام آباد 2009 سے 2023 کے درمیان کم از کم چھ ڈوزیئر عالمی برادری کو پیش کر چکا ہے جن میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے تقریباً 47 ہزار 900 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں ایک ہزار 16 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 762 جانوں کا نقصان ہوا جن میں تقریباً 300 عام شہری بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی سطح پر دہشت گردی بیرونی مدد اور آپریشنل بیس کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے افغانستان کو بھارت کا بنیادی اڈہ قرار دیا جہاں سے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کی کہ مغربی طاقتیں پاکستان کے مؤقف کی کھل کر تائید کیوں نہیں کرتیں، اس کی وجہ بھارت کی "اطلاعات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کی مشینری” ہے جس نے اسلام آباد کے بیانیے کو دبایا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مغرب کو بھارت کو محض "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر” کے بجائے "دہشت گردی پھیلانے والی ریاست” تسلیم کرنا چاہیے۔
پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے بھارتی الزامات کو انہوں نے "کلاسک ڈس انفارمیشن حربہ” قرار دیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے زور دیا کہ پاکستان نے کبھی لشکر طیبہ (LeT) یا جیش محمد (JeM) جیسے گروہوں کی سرپرستی نہیں کی اور ریاستِ پاکستان کی کبھی بھی دنیا میں کہیں دہشت گردی کو فروغ دینے کی پالیسی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شدت پسند گروہوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتا۔ ان کے مطابق دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، نہ وہ مسلمان ہے، نہ ہندو اور نہ ہی عیسائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نجی ملیشیا یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی دہائیوں پر محیط قربانیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران فرنٹ لائن ریاست رہا اور بعد ازاں دہشت گردی کی لہر نے پاکستانی معاشرے، معیشت اور انسانی جانوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

