پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ کا بڑھتے ایٹمی خطرات پر انتباہ

اقوام متحدہ کا بڑھتے ایٹمی خطرات پر انتباہ
ا

اقوام متحدہ (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے نیویارک میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ ایٹمی خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور نئے رخ اختیار کر رہے ہیں۔

یہ اجلاس "ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا عالمی دن” کے موقع پر منعقد ہوا، جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرے کو اجاگر کرنا اور عالمی برادری کو تخفیفِ اسلحہ کے عزم کی یاد دہانی کرانا تھا۔

اقوام متحدہ کے چیف آف کیبنٹ کورٹنی ریٹری نے سیکریٹری جنرل کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ ایٹمی ہتھیار اب بھی دنیا کے لیے خطرہ ہیں اور دہائیوں کے وعدوں کے باوجود یہ خطرہ بڑھتا اور بدلتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مندوبین کو یاد دلایا کہ 1945 میں امریکہ کے ایٹمی حملوں سے جاپان میں ہونے والی تباہی اور ہیروشیما و ناگاساکی کے متاثرین (ہیباکوشا) کا درد آج بھی دنیا کے سامنے ہے، جنہوں نے اپنے دکھ کو امن کی پکار میں بدل دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ایک نئی، پیچیدہ، غیر متوقع اور کہیں زیادہ خطرناک ایٹمی دوڑ کی طرف "غفلت میں چل پڑی ہے”۔

ریٹری نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اور نئے میدانوں نے غلطی کی گنجائش ختم کر دی ہے، جن میں سائبر اسپیس، خلا، ہائپر سونک میزائل اور سمندر کی گہرائیوں میں ڈرونز شامل ہیں، جو غلط اندازوں اور کشیدگی کے خدشات بڑھاتے ہیں۔

ان کے مطابق، یہ صرف ہتھیاروں کا بحران نہیں بلکہ یادداشت، ذمہ داری اور جرات کا بحران ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اقوام متحدہ ایک آزاد سائنسی پینل تشکیل دے گا جو ایٹمی جنگ کے اثرات کا جائزہ لے گا تاکہ اجتماعی ردعمل سائنسی بنیادوں پر استوار ہو۔

ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تخفیفِ اسلحہ کے لیے کبھی بھی "مناسب حالات” نہیں ہوتے اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک اس پر عملدرآمد نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ تخفیفِ اسلحہ امن کا انعام نہیں بلکہ امن کی بنیاد ہے۔

ریٹری نے کہا کہ ایٹمی طاقتوں کو دوبارہ مکالمے کی میز پر آنا ہوگا، اعتماد سازی کے اقدامات کرنے ہوں گے اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول انسانوں کے پاس رہے نہ کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کے ہاتھوں میں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک کو جامع ایٹمی تجربہ بندی معاہدے (CTBT) کی توثیق کرنی چاہیے، جو ایٹمی تجربات پر پابندی عائد کرتا ہے، اور امریکہ و روس کو اپنے ایٹمی ہتھیار کم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے چاہییں۔ ان کے بقول، یہ اقدامات بذاتِ خود ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا نہیں بنائیں گے لیکن ان کے بغیر مستقبل خوف کے سپرد ہو جائے گا اور امن کی امید خاموش ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات پیچیدہ ہیں، جن میں ان کے دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے یا میدانِ جنگ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے خدشات شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ معاہدے اس وقت تک بامعنی نہیں جب تک ممالک ان پر عمل نہ کریں۔ انہوں نے "پہلے استعمال نہ کرنے” کی پالیسی اپنانے اور اسلحہ کی دوڑ پر خرچ ہونے والے وسائل کو ماحولیاتی اقدامات پر منتقل کرنے پر زور دیا۔

بیئربوک نے عالمی برادری کو ترغیب دی کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کو مثبت اور محفوظ انداز میں انسانیت کی خدمت میں استعمال کیا جائے، مثلاً کینسر کے علاج اور ماحولیاتی نگرانی میں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین