بیونس آیرس (مشرق نامہ) – ارجنٹائن کے نوبل امن انعام یافتہ ایڈولفو پریز ایسکوئیول نے ایک وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ارجنٹائن بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرے اگر وہ ملک میں داخل ہوں۔
پیر کے روز ارجنٹائن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، باضابطہ درخواست عدالت میں جمع کرانے کے موقع پر، پیریز نے کہا کہ ارجنٹائن کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے اور آئی سی سی کے ان فیصلوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے جن میں نیتن یاہو پر غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر [خاویر] ملیئی کی دعوت پر وہ یہاں آتے ہیں تو لازمی طور پر انہیں مزاحمت کا سامنا ہوگا اور امید ہے کہ وہ ملک میں نہ آئیں۔
انہوں نے حکومت کو یاد دہانی کرائی کہ ارجنٹائن آئی سی سی کے دائرہ کار کو تسلیم کرتا ہے، اس لیے اس کے فیصلوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ پیریز کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیوں نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور تقریباً 20 ہزار بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جس کے بعد جوابدہی کی ضرورت ناقابل تردید ہے۔
پیریز نے ملیئی حکومت کو اس موقف پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ نیتن یاہو کے خلاف کسی بھی گرفتاری کے حکم پر عمل نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ جمہوری اصولوں سے غداری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا مؤقف غیر مبہم ہے جبکہ صدر کا انکار جمہوریت کے لیے منفی اشارہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ارجنٹائن بڑھتی ہوئی حد تک اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ صف بندی کر رہا ہے۔
انصاف، امن اور مزاحمت
لاطینی امریکہ کی انسانی حقوق کی تحریک کی ایک ممتاز شخصیت، پیریز کو 1980 میں نوبیل امن انعام اس وقت دیا گیا جب انہوں نے ارجنٹائن کی فوجی آمریت کے خلاف پُرامن جدوجہد کی تھی، جس دوران انہیں قید اور اذیتیں بھی دی گئیں۔ ان کی تازہ مداخلت ان کے دیرینہ عزم کو اجاگر کرتی ہے جو انصاف اور ریاستی جبر کی مخالفت پر مبنی ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو امریکہ کے دورے کے بعد ارجنٹائن آنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، تاہم اسرائیلی حکام نے بعد میں کہا کہ یہ دورہ "تکنیکی وجوہات” کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع تھا جب صدر ملیئی کے دور میں تل ابیب اور بیونس آئرس کے درمیان فوجی و سفارتی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں ملیئی کو اسرائیل سے غیر متزلزل وابستگی کے اعتراف میں بنی بریتھ ایوارڈ بھی دیا گیا۔
پیریز نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ وہ اقوام متحدہ میں امن اقدامات کو ویٹو کے ذریعے ناکام بنا کر غزہ کی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت کرتا ہے اور یہی پالیسی امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ اس حمایت کے باعث اسرائیل بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا آیا ہے اور اس کے طاقتور اتحادی اس جارحیت کو ممکن بناتے ہیں۔ پیریز نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنا مینڈیٹ پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق٬ اقوام متحدہ کو اصلاح اور جمہوری بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم دنیا کے عوام امن چاہتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہیں تو یہ انتہائی خطرناک ہے۔
سرحدوں سے پرے یکجہتی
نوبل انعام یافتہ نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ بڑی تعداد میں یہودی ارجنٹائنی بھی اسرائیل کے غزہ پر حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے اداکار نورمن برسکی کی مثال دی، جنہیں اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کرنے کے بعد یہود دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہودی برادری کے اندر بھی متنوع آوازیں ہیں جو جنگی جرائم کو مسترد کرتی ہیں۔ پیریز نے "ناٹ ان آور نیم” مہم کا ذکر کیا جس کے تحت یہودی اور فلسطين نواز کارکنان مل کر پرامن حل اور یکجہتی کو فروغ دے رہے ہیں۔
اپنی گفتگو میں پیریز نے عالمی سول سوسائٹی کے اقدامات کو بھی سراہا، جیسے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا، جو اسرائیل کی غزہ پر ناکہ بندی کو توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
فوری طور پر حملے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیریز نے کہا کہ اسرائیل کو اس نسل کشی کو روکنا چاہیے جسے وہ روزانہ جاری رکھے ہوئے ہے، ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہا ہے اور ایک قوم کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔ ان کے بقول٬ یہ واقعی انتہائی برا ہے اور انسانیت کو اس میں مدد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف یورپی ممالک امن کی بات کرتے ہیں لیکن وہ اسرائیل کی مدد جاری رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ خاموش ہے۔ امریکہ مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو ختم کر دیا جائے۔
اپیل کے ذریعے پیریز کا مطالبہ ہے کہ ارجنٹائن سیاسی اتحادوں پر انصاف کو ترجیح دے اور وہ غزہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑا ہو، نہ کہ ان کے ساتھ جو ان پر جنگ مسلط کرتے ہیں۔

