یروشلم (مشرق نامہ) – فلسطین کی ہائر پریذیڈنشل کمیٹی برائے چرچ امور نے کہا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں چرچوں اور متعلقہ اداروں پر حملوں کے دوران فلسطین میں مسیحی موجودگی کو "تباہ” کر دیا ہے۔ یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس دعوے کی براہِ راست تردید کے طور پر سامنے آیا ہے کہ اسرائیل مشرقی ایشیا میں مسیحیوں کا محافظ ہے۔
کمیٹی نے اتوار کے روز اپنے آفیشل فیس بک پیج پر جاری بیان میں ایک تصویر بھی شائع کی، جس میں 2002 میں مغربی کنارے پر اسرائیلی حملے کے دوران ایک اسرائیلی ٹینک کو چرچ آف نٹیوٹی کے سامنے کھڑا دکھایا گیا ہے۔
یہ ردعمل نیتن یاہو کی جمعہ کو اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل ہی مسیحیوں کا واحد محافظ ہے۔ کمیٹی نے بیان میں کہا کہ ایک تقریباً خالی جنرل اسمبلی ہال میں "جنگی مجرم اور آئی سی سی کے مفرور” نیتن یاہو نے ایک بار پھر فلسطینی مسیحیوں کے بارے میں جھوٹ پھیلایا، اور کئی مندوبین نے ان کی تقریر کے آغاز پر ہی احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ حقیقت واضح ہے: اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیاں، نسلی تطہیر، نسلی امتیاز اور نسل کشی نے فلسطین میں مسیحی موجودگی کو ختم کر دیا ہے۔
کمیٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 1948 کے نَقبت سے قبل تاریخی فلسطین (مغربی کنارہ بشمول القدس، غزہ اور 1948 سے قبضے میں لی گئی زمینیں) میں فلسطینی مسیحیوں کی آبادی 12.5 فیصد تھی، جو آج گھٹ کر صرف 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 1967 میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں صرف 1 فیصد باقی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی پر مبنی جنگ کے دوران کم از کم 20 فلسطینی مسیحی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اب تک اس جارحیت میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں، اور غزہ کی پٹی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
مزید برآں، نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے نیتن یاہو اور ان کے وزیر برائے عسکری امور یوآف گیلاڈ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

