مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس 20 نکاتی منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس کے ذریعے اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ دراصل ’’فلسطینی قوم پر اسرائیلی جارحیت کو دائمی بنانے کا فارمولا‘‘ ہے۔
سوموار کو جاری بیان میں زیاد النخالہ نے زور دیا کہ یہ تجویز، جو ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ پیش کی، مکمل طور پر قابض صہیونی رژیم کے ویژن کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل، امریکہ کی پشت پناہی سے وہ سب کچھ نافذ کرنا چاہتا ہے جو وہ عسکری کارروائی کے ذریعے حاصل نہ کر سکا۔ اس لیے ہم امریکی۔اسرائیلی اعلان کو خطے میں مزید کشیدگی بڑھانے کا محرک سمجھتے ہیں۔
سوموار کو ٹرمپ نے اپنے منصوبے کے اعلان کے بعد کہا کہ ہم محض قریب نہیں بلکہ انتہائی قریب ہیں اور اس دن کو ’’امن کے لیے تاریخی دن‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے اس نام نہاد امن منصوبے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مسلم اور عرب رہنماؤں کو بھی پیش کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس منصوبے میں شامل ہے کہ تمام اسرائیلی قیدیوں کو 48 گھنٹے میں رہا کیا جائے، غزہ کو غیر مسلح کیا جائے، اور اسرائیلی فوج کو بتدریج غزہ سے واپس بلایا جائے۔
اس عمل کی نگرانی ایک "بورڈ آف پیس” کرے گا، جس کی قیادت عرب دنیا، اسرائیل اور امریکہ کے رہنما کریں گے۔
ٹرمپ نے مزید ذکر کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم فلسطینی ریاست کے قیام کے شدید مخالف ہیں۔
انہوں نے تل ابیب رژیم کے لیے اپنی بھرپور حمایت دہراتے ہوئے کہا کہ وہ مقبوضہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہیں سننے میں آیا ہے کہ حماس بھی اس معاملے کو طے کرنا چاہتی ہے۔
اپنی جانب سے نیتن یاہو نے ٹرمپ کی تعریف کی اور غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے اس منصوبے کی تائید کا اظہار کیا۔

