پیر, فروری 16, 2026
ہومنقطہ نظرافغانستان کا بگرام ایئربیس: ٹرمپ کیوں اسے دوبارہ حاصل کرنے کیلیے بیتاب...

افغانستان کا بگرام ایئربیس: ٹرمپ کیوں اسے دوبارہ حاصل کرنے کیلیے بیتاب ہیں؟
ا

تحریر: روچی کُمار

یہ اڈہ امریکہ کو دوبارہ خطے میں طاقت کے اظہار کا موقع دے سکتا ہے، چین قریب ہی واقع ہے، مگر اسے دوبارہ حاصل کرنا آسان نہ ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کی حکمران طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بگرام ایئربیس امریکہ کے حوالے کرے، پانچ برس بعد جب انہی نے اس گروہ کے ساتھ وہ معاہدہ کیا تھا جس نے کابل سے امریکی انخلا کی راہ ہموار کی تھی۔

18 ستمبر کو برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکومت بگرام واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ [طالبان کو] کچھ دیے بغیر دے دیا، ہم یہ اڈہ واپس چاہتے ہیں۔

دو دن بعد، 20 ستمبر کو، انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک واضح دھمکی دی: اگر افغانستان بگرام ایئربیس ان لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنہوں نے اسے تعمیر کیا تھا، یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ، تو بہت بُری چیزیں ہونے والی ہیں۔

طالبان نے ٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے اس سابق امریکی فوجی اڈے کو دوبارہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہو۔ فروری 2025 کی ایک میڈیا بریفنگ میں، جو اب وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ سے حذف کر دی گئی ہے، ٹرمپ سے منسوب یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ہم بگرام کو رکھنے والے تھے، اور ہم اس پر ایک چھوٹی فوج رکھنے والے تھے۔

بگرام ایئربیس کیا ہے؟

چار سال بعد جب امریکی افواج نے افغانستان میں اپنے فوجی اڈے خالی کر دیے، بگرام ایک متنازعہ جائیداد کے طور پر باقی رہا ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ دوبارہ طالبان سے واپس لینا چاہتی ہے۔

یہ اڈہ، جس میں دو کنکریٹ رن وے ہیں — ایک 3.6 کلومیٹر اور دوسرا 3 کلومیٹر طویل — کابل کے شمال میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ گزشتہ نصف صدی کے دوران افغانستان پر قابض یا برسرپیکار مختلف طاقتوں کے لیے ایک اہم فوجی مرکز رہا ہے۔

یہ ہوائی اڈہ سب سے پہلے 1950 کی دہائی میں سوویت یونین نے تعمیر کیا، جسے سرد جنگ کے آغاز میں ایک بڑی پیش قدمی سمجھا گیا۔ 1979 میں سوویت حملے کے بعد یہ بیس ایک دہائی تک ماسکو کے کنٹرول میں رہا، مگر پھر پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ بعد ازاں طالبان نے بھی اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

2001 میں نیٹو کے افغانستان پر حملے کے بعد یہ اڈہ امریکی فوجی موجودگی کا مرکز بن گیا اور مختلف فوجی ڈویژنز کا کمانڈ سنٹر، جس کی صلاحیت اور گنجائش وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔

2009 میں اپنے عروج پر اس اڈے میں 10 ہزار افراد تک رہ سکتے تھے۔ امریکی کنٹرول کے دوران یہ اڈہ دیگر نیٹو اتحادی افواج کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا، جن میں برطانیہ کے رائل میرینز بھی شامل تھے۔

فوجی یونٹس کے علاوہ، اس اڈے پر ایک بدنام زمانہ جیل بھی موجود تھی جہاں افغان قیدیوں پر امریکی اور مقامی اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کیا جاتا تھا۔ بگرام میں ایک مکمل ہسپتال، ہزاروں فوجیوں کے لیے رہائشی بیرکس اور امریکی چین ریسٹورنٹس مثلاً پیزا ہٹ اور سب وے بھی قائم تھے۔

اگست 2021 کے انخلا کے دوران امریکی افواج نے اس اڈے کو خالی کیا، ہتھیاروں اور سامان کا بڑا حصہ تباہ کر دیا، باقی لوکل گروہوں نے لوٹ لیا، جس کے بعد طالبان نے قبضہ کر لیا۔

ٹرمپ بگرام کو واپس کیوں چاہتے ہیں؟

ٹرمپ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ 2021 کے ہنگامی انخلا میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر ہتھیار پیچھے چھوڑ دیے جو طالبان اور دیگر مسلح گروہوں کے ہاتھ لگ گئے۔

لیکن ماہرین کے مطابق بگرام کی اصل اہمیت وہاں کے تباہ شدہ ہتھیاروں یا اڈے کی سہولتوں میں نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اور علامتی حیثیت میں ہے۔

بحیثیت ایک سوویت تعمیر شدہ اڈے کے، اس پر امریکی قبضہ طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ افغانستان کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے میں بڑے فوجی طیاروں کے لیے لینڈنگ کی محدود سہولیات ہیں، اور بگرام ملک کا سب سے بڑا ایئربیس ہونے کی وجہ سے منفرد ہے۔

2001 کے بعد واشنگٹن کی نام نہاد "دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں بگرام کا مرکزی کردار تھا، جہاں سے بڑے فضائی آپریشن لانچ کیے گئے، جن میں 2015 کا قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر بمباری بھی شامل ہے جس میں 42 افراد مارے گئے۔

اب جبکہ چین کو امریکہ کا سب سے بڑا حریف سمجھا جا رہا ہے، بگرام کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ بیس چینی سرحد سے 800 کلومیٹر اور سنکیانگ میں میزائل فیکٹری سے تقریباً 2400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں چین کو بارہا بگرام واپس لینے کی بنیادی وجہ قرار دیا، دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ بیس "ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے”۔

چینی حکام نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا مستقبل اس کے عوام کے ہاتھ میں ہونا چاہیے، اور خطے میں کشیدگی بڑھانا یا محاذ آرائی پیدا کرنا مقبول نہیں ہوگا۔

کیا امریکہ بگرام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ امکان کم ہے۔

نظریاتی طور پر بگرام خطے میں امریکی طاقت کے اظہار کے لیے اہم ہے، مگر یہ اقدام امریکہ کی اس پالیسی کے برعکس ہوگا جس میں افغانستان میں فوجی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔

طالبان کے لیے بھی اس اڈے کو چھوڑنا کسی صورت ممکن نہیں، کیونکہ ایسا کرنا ان کی سیاسی اور نظریاتی ساکھ کو تباہ کر دے گا۔ طالبان کی تحریک بنیادی طور پر غیر ملکی قبضے کے خلاف مزاحمت کے نعرے پر قائم ہوئی تھی۔

باہس اور ازمی جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے کسی غیر ملکی فوجی طاقت کو دوبارہ ایک انچ زمین پر قدم رکھنے دیا تو ان کی صفوں میں بڑے پیمانے پر بغاوت پھوٹ سکتی ہے۔

طالبان کا مؤقف

طالبان نے بارہا ٹرمپ کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے 2020 کے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔

طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ اس معاہدے میں امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرے گا اور نہ مداخلت کرے گا۔

امریکی منصوبہ کیا ہے؟

اگرچہ طالبان کے انکار کے باوجود ٹرمپ کا اصرار جاری ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ بگرام کا مطالبہ کسی بڑے سودے بازی کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی بھی ہو سکتا ہے۔

مثلاً مستقبل میں امریکہ چھوٹے مگر علامتی مطالبات پر راضی ہو سکتا ہے، جیسے کچھ ہتھیاروں یا سامان کی واپسی۔

ماہرین کے مطابق طالبان بھی اس موقع کو بین الاقوامی سطح پر اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت ان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔

آخری تجزیے میں، ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا طالبان کے ساتھ معاملہ کرنا اس بات پر منحصر ہوگا کہ طالبان بدلے میں کیا پیش کر سکتے ہیں — چاہے وہ معدنیات میں سرمایہ کاری ہو، ہتھیار ہوں یا بگرام جیسا فوجی اڈہ۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین