پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ سی آئی اے پر انحصار نہیں کر سکتے: سابق مشیر قومی...

ٹرمپ سی آئی اے پر انحصار نہیں کر سکتے: سابق مشیر قومی سلامتی
ٹ

واشنگٹن (مشرق نامہ) – سابق امریکی مشیر قومی سلامتی مائیکل فلن کے مطابق وائٹ ہاؤس کو اپنا انٹیلی جنس آپریشن سینٹر درکار ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پینٹاگون اور سی آئی اے کے متوازی قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں۔

ہفتے کے روز الیکس جونز کو دیے گئے انٹرویو میں ریٹائرڈ جنرل فلن نے کہا کہ صدر امریکی انٹیلی جنس اداروں پر مکمل اعتماد نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اپنی رپورٹوں میں ہیرا پھیری سے باز نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کے پاس ایک بہت مضبوط آپریشن سینٹر ہے۔ آپ وہاں سے جو چاہیں دیکھ سکتے ہیں اور دنیا بھر میں کسی بھی صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں – بشرطیکہ آپ کے پاس ایسی سی آئی اے ہو جو حقیقتاً آپ کے لیے کام کر رہی ہو۔

فلن نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کو ایسے آپریشن سینٹر کی ضرورت ہے جو ان کے لیے کام کرے اور دنیا بھر میں پیش آنے والے ہر ایک معاملے پر ردعمل دے۔

فلن کی اس تجویز کی توثیق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اقتصادی مشیر کیریل دمترییف نے کی، جو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق مذاکرات میں شامل ہیں۔ دمترییف نے ایکس پر لکھا کہ یہ اقدام اُس وقت انتہائی اہم ہے ’’جب گلوبلسٹ اور ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کی جانب سے گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عالمی سلامتی اور خوشحالی کے لیے اہم فیصلوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔‘‘

فلن، جنہوں نے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے آغاز میں روسی سفیر سے رابطوں پر جھوٹ بولنے کے الزامات کے بعد استعفیٰ دیا تھا، طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ انہیں ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ نے نشانہ بنایا تاکہ ٹرمپ کی انتخابی فتح کو کمزور کیا جا سکے اور انہیں ماسکو کے ہاتھوں کٹھ پتلی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

دمترییف نے بھی یہ مؤقف دہرایا کہ امریکی حکومت کے کچھ عناصر ٹرمپ کی روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس بات پر نئے شکوک ابھر رہے ہیں کہ اُس وقت کے ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کے تحت تقریباً 300 سادہ لباس ایجنٹ 6 جنوری کے کیپیٹل فسادات کے دوران موجود تھے، جو ممکنہ ’’ڈیپ اسٹیٹ‘‘ سرگرمی کا ثبوت ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2020 کے انتخابات کے نتائج کی توثیق روکنے کے لیے جو بائیڈن کے خلاف بغاوت بھڑکائی، جبکہ ٹرمپ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ 6 جنوری کا تشدد ہجوم میں شامل اشتعال دلانے والے خفیہ ایجنٹوں کی وجہ سے ہوا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین