مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایران پر عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں نے اس کے ابھرتے ہوئے متوسط طبقے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جو دراصل سماجی استحکام اور اعتدال پسندی کا سب سے اہم سہارا تھا۔ محمد رضا فرزانہ گان کے مطابق مغرب کا یہ تصور کہ "سمارٹ پابندیاں” حکومتوں کو نشانہ بناتی ہیں اور عوام محفوظ رہتے ہیں، محض ایک فریب ثابت ہوا۔
تحقیق کے مطابق 2012 کے بعد پابندیوں نے ایران کے متوسط طبقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ 2012 سے 2019 کے درمیان ایران کا متوسط طبقہ اپنے ممکنہ سائز سے اوسطاً 17 فیصد چھوٹا ہو گیا، اور 2019 تک یہ کمی 28 فیصد تک جا پہنچی۔ اس کے نتیجے میں انجینئرز، ڈاکٹرز، اساتذہ اور چھوٹے کاروباری حضرات غربت کا شکار ہو گئے۔
پابندیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری رُک گئی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار دیوالیہ ہو گئے، اور افراطِ زر نے لاکھوں خاندانوں کی جمع پونجی ختم کر دی۔ یوں متوسط طبقے کے لوگ "نئے غریب” بن گئے۔
مصنف کے مطابق پابندیوں نے نہ صرف عام ایرانیوں کو نقصان پہنچایا بلکہ سخت گیر عناصر کو مزید مضبوط کر دیا، جو اب عوام کی بدحالی کا الزام بیرونی دشمنوں پر ڈال کر اپنی گرفت مزید سخت کر چکے ہیں۔
یہ ایک ایسی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی تھی جو دراصل مغرب کے لیے الٹی ثابت ہوئی — اصلاحات اور اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے بجائے اس نے انتہا پسندی اور عدم استحکام کو جنم دیا۔

