پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیپاک-سعودی معاہدہ اسرائیلی خطرے کو روکنے کے لیے ہے: سابق سینیٹر

پاک-سعودی معاہدہ اسرائیلی خطرے کو روکنے کے لیے ہے: سابق سینیٹر
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): سابق سینیٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے بڑھتے ہوئے خطرے اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر اعتماد میں کمی کے باعث کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک ریسرچ رپورٹ "Pakistan & Saudi Arabia: Muslim World’s Strategic Security Partners” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے دو اہم معمار پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، اور یہ معاہدہ ابھرتے ہوئے ’’بھارت-اسرائیل اتحاد‘‘ کو روکنے میں کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے اس دفاعی معاہدے کی تین بڑی وجوہات بیان کیں:

  1. اسرائیلی جارحیت خصوصاً قطر پر حملہ، جس نے خطے پر تسلط کے عزائم کو ظاہر کیا۔
  2. امریکہ کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والا خلا، جس میں پاکستان کو بطور متبادل سکیورٹی پارٹنر دیکھا جانے لگا۔
  3. پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ، جب اس نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا اور اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا۔

مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے ایک نیا سکیورٹی ماڈل تشکیل دیا ہے، جس میں پاکستان کی فوجی طاقت اور سعودی عرب کی اقتصادی قوت مل کر خطے میں جارحیت کے خلاف ڈھال ثابت ہوں گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین