پیر, فروری 16, 2026
ہومپاکستاناپٹما کا بجلی پیداوار کے غیر حقیقی منصوبے پر کڑا ردعمل

اپٹما کا بجلی پیداوار کے غیر حقیقی منصوبے پر کڑا ردعمل
ا

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی تنظیم آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کے اس ہدف پر سخت اعتراضات اٹھائے ہیں جس کے تحت 2025 سے 2035 کے دوران بجلی کی پیداواری صلاحیت کو 50 فیصد بڑھا کر 64 ہزار میگاواٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اپٹما نے اسے غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جو ’’مہنگی بجلی‘‘ کے بوجھ کو مزید طویل عرصے تک مسلط کر دے گی۔

اپٹما نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو پیش کیے گئے اپنے تفصیلی اعتراضات میں کہا کہ حکومت نے آبادی اور جی ڈی پی کی نمو پر مبنی ’’بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے تخمینوں‘‘ کو بنیاد بنایا ہے، جن میں ملک کی معاشی اور توانائی کی زمینی حقیقتوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس منصوبے کے بنیادی مسئلے کا تعلق ’’ڈیمانڈ فورکاسٹنگ کے طریقۂ کار‘‘ سے ہے جو پورے منصوبے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔ اس نے زور دیا کہ انرجی پلاننگ کو زمینی معاشی حقائق اور صارفین کے لیے قابلِ برداشت نرخوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

اپٹما کے مطابق آئی جی سی ای پی (Indicative Generation Capacity Expansion Plan 2025-35) نے ایک سطحی اور غلط شماریاتی ماڈل استعمال کیا ہے جو بجلی کی طلب کو براہ راست جی ڈی پی اور آبادی کی نمو کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہ ماڈل اس حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ کیپٹیو پاور (گیس یا فرنس آئل جنریٹرز)، سولر پینلز، گیس بوائلرز، سولر واٹر ہیٹرز اور دیگر متبادل ذرائع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو گرڈ سے بجلی لینے کے بجائے براہِ راست صارفین کو توانائی فراہم کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں مستقبل کی بجلی کی طلب کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر دکھایا گیا ہے، جو اضافی منصوبہ جات، زیادہ صلاحیت کے بے کار ہو جانے، مہنگے معاہدوں اور صارفین پر بڑھتے ہوئے بوجھ کا باعث بنتی ہے۔

اپٹما نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی منصوبہ بندی میں بنیادی خامی یہ ہے کہ ’’مانگ کا اندازہ جان بوجھ کر زیادہ دکھایا جاتا ہے‘‘، جس کے باعث نہ صرف پیداواری منصوبے غلط رخ اختیار کرتے ہیں بلکہ صارفین کو بھی ضرورت سے زیادہ مہنگی بجلی برداشت کرنا پڑتی ہے۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر ’’قابل برداشت لاگت‘‘ کو منصوبہ بندی کی بنیاد نہ بنایا گیا تو صلاحیت کے معاوضوں (Capacity Payments) کا بوجھ بڑھتا رہے گا، جو گزشتہ 10 سال میں 2 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 17.06 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکا ہے اور مجموعی طور پر 6 کھرب روپے سے زیادہ ہوچکا ہے — جو کہ ایندھن کی مجموعی لاگت سے بھی بڑھ گیا ہے۔

اپٹما نے مطالبہ کیا کہ کوئی بھی نیا پیداواری منصوبہ اس وقت تک شروع نہ کیا جائے جب تک صلاحیت کے معاوضوں کو 5 روپے فی یونٹ سے کم نہ کر دیا جائے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ملک اس وقت طلب میں جمود، پیداواری صلاحیت کی زیادتی اور ’’بیکار پلانٹس‘‘ جیسے خطرات سے دوچار ہے۔ مالی سال 2025 میں صنعتی طلب میں 4 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ زرعی شعبے کی کھپت ایک تہائی سے بھی زیادہ گر گئی ہے کیونکہ کسان ڈیزل اور سولر ذرائع پر منتقل ہو گئے ہیں۔

ایسی صورتحال میں جب بجلی کی طلب رکی ہوئی ہے، آئی جی سی ای پی نے مزید 20 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو مزید بے کار منصوبوں، بھاری اخراجات اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو جنم دے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین