پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیسفارتکاری سے کھیلوں تک: عالمی سطح پر اسرائیل کی تنہائی بڑھتی جا...

سفارتکاری سے کھیلوں تک: عالمی سطح پر اسرائیل کی تنہائی بڑھتی جا رہی ہے
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – جیسے جیسے غزہ میں جنگ اور انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے، اسرائیل عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، اور اس کے اثرات معیشت، ثقافت اور کھیلوں تک پھیل چکے ہیں۔

بین الاقوامی مذمت میں اضافہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے غزہ شہر پر زمینی حملے کا اعلان کیا اور قطر کی سرزمین پر حماس کی قیادت کے خلاف ایک غیرمعمولی کارروائی کی۔ اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ایک آزادانہ تحقیقاتی کمیشن نے پہلی بار یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی ہے۔ یہ وہی موقف ہے جسے کئی دیگر ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے سے بیان کر چکی ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔

گزشتہ ہفتے یورپی یونین، جو اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، نے تجویز پیش کی کہ اگر رکن ممالک منظور کریں تو اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو جزوی طور پر معطل کیا جائے۔ اس سے قبل کئی مغربی ممالک اسرائیلی شخصیات، آبادکار چوکیوں اور مغربی کنارے میں تشدد کی حامی تنظیموں پر پابندیاں لگا چکے ہیں۔

عالمی دباؤ اسرائیل کی معیشت کو دیگر طریقوں سے بھی متاثر کر رہا ہے۔

اگست میں ناروے کے خودمختار فنڈ، جو دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ کاری فنڈ ہے، نے غزہ میں انسانی بحران کے باعث اسرائیل میں اپنی سرمایہ کاری کا کچھ حصہ واپس لینے کا اعلان کیا۔

فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے بھی غزہ میں اسرائیلی اقدامات کے باعث اسلحہ کی فراہمی پر جزوی یا مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ ردعمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ خود اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ اسرائیل ایک "قسم کی تنہائی” کا سامنا کر رہا ہے جو برسوں جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی اسلحہ سازی کو مزید ترقی دینی ہوگی اور اپنی معیشت کو بیرونی تجارت پر کم انحصار کے قابل بنانا ہوگا۔ بعد ازاں انہوں نے اس بیان کو دفاعی صنعت تک محدود کر کے کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

جنگ بڑھنے کے ساتھ اسرائیل کو ثقافت اور فنون کے میدان میں بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

یورپ کے کئی ممالک، جن میں آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسپین شامل ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو 2026 کے یورووژن گانے کے مقابلے میں شریک ہونے کی اجازت دی گئی تو وہ اس کا بائیکاٹ کریں گے۔ آئرش قومی نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے کہا کہ غزہ میں "جاری اور ہولناک جانی نقصان” کے پیش نظر اس کی شرکت ناقابلِ قبول ہوگی۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کان 11 نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کے لیے 2026 کا امیدوار منتخب کرنے کا عمل جاری رکھے گا اور یورووژن جیسے جشن کو سیاسی نہیں بننے دینا چاہیے۔ یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے کہا ہے کہ رکن ممالک نومبر میں ووٹ دیں گے کہ اگلے سال کن ممالک کو شامل کیا جائے۔ اسرائیل 1973 سے یورووژن کا حصہ رہا ہے۔

فنونِ لطیفہ میں بھی اسرائیل کو دھچکا لگا ہے۔ بیلجیم کے شہر گینٹ میں ایک میوزک فیسٹیول نے اسرائیلی کنڈکٹر لہاو شانی کے ساتھ میونخ فلہارمونک آرکسٹرا کی مجوزہ پرفارمنس منسوخ کر دی۔ فیسٹیول کے منتظمین نے کہا کہ اگرچہ شانی نے ماضی میں امن کی حمایت کی ہے لیکن تل ابیب میں "نسل کشی کرنے والے رجیم” کے حوالے سے ان کے مؤقف میں ابہام موجود ہے۔

اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ غزہ میں جنگ کو اپنے دفاع میں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق لڑ رہی ہے اور نسل کشی کے تمام الزامات کو سختی سے رد کرتی ہے۔

ہالی وڈ میں ہزاروں فلم سازوں، اداکاروں اور فلمی کارکنوں نے اسرائیلی فلمی اداروں کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا ہے، جنہیں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور نسلی امتیاز میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔ ان دستخط کنندگان میں اولیویا کولمین، ایما اسٹون، اینڈریو گارفیلڈ اور ہنہ آئنبائنڈر شامل ہیں۔ آئنبائنڈر نے حال ہی میں ایمی ایوارڈ جیتنے کے بعد اپنی تقریر "فری فلسطین” کے الفاظ پر ختم کی۔

کھیلوں میں بھی اسرائیل کو بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ اس ماہ ایک بڑی سائیکل ریس کا فائنل مرحلہ اس وقت منسوخ کرنا پڑا جب اسرائیلی ٹیم کی شرکت کے خلاف بڑے پیمانے پر فلسطین حامی مظاہرے ہوئے۔ اسپین میں ایک شطرنج ٹورنامنٹ کے منتظمین نے اسرائیلی کھلاڑیوں کو اپنی قومی پرچم کے تحت کھیلنے کی اجازت نہیں دی جس پر وہ مقابلے سے دستبردار ہو گئے۔

اسرائیلی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل کو یورپی فٹبال مقابلوں سے معطل کیے جانے کا خدشہ ہے۔ اگست میں یو ای ایف اے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب سپر کپ کے فائنل میں میدان پر ایک بینر لہرایا گیا جس پر لکھا تھا: "بچوں کو قتل کرنا بند کرو، شہریوں کو قتل کرنا بند کرو”۔ اسرائیل کی وزیر ثقافت و کھیل میکی زوہار نے کہا کہ وہ اور دیگر حکام اسرائیل کو یو ای ایف اے سے نکالنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔

کئی پریمیئر لیگ کھلاڑیوں، بشمول لیورپول کے محمد صلاح، نے بھی غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف آواز بلند کی اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔

اسرائیل کا ’جنوبی افریقہ‘ لمحہ؟

اسرائیل کو درپیش یہ معاشی اور ثقافتی ردعمل جنوبی افریقہ پر نسل پرست دور میں ڈالے گئے دباؤ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔

1950 اور 1990 کی دہائیوں کے درمیان جنوبی افریقہ کو عالمی بائیکاٹ کا سامنا رہا جس نے اسے عالمی برادری سے کاٹ دیا۔ اس کے مصنوعات مغربی منڈیوں سے نکال دی گئیں، سرمایہ کاری ختم ہوئی اور موسیقاروں نے پرفارم کرنے سے انکار کر دیا۔ کھیلوں میں بھی جنوبی افریقہ کو عالمی مقابلوں سے خارج کر دیا گیا۔

اسرائیل کے سابق سفیر برائے جنوبی افریقہ ایلان باروخ، جنہوں نے 2011 میں حکومت کے دو ریاستی حل سے پیچھے ہٹنے کے خلاف استعفیٰ دیا تھا، نے کہا کہ یورووژن اور فٹبال ٹورنامنٹس بہت زیادہ مقبول ہیں، اور اگر ان کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ جوڑا گیا تو اس کا اثر ضرور پڑے گا، جیسا کہ جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوا۔

باروخ اب پالیسی ورکنگ گروپ کے سربراہ ہیں جو اسرائیلی ماہرین، کارکنوں اور سابق سفارتکاروں پر مشتمل ہے اور فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل پر دباؤ ضروری ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف اسے یورپی یونین کے ساتھ مراعات یافتہ تجارتی تعلقات ملیں اور دوسری طرف وہ فلسطینی انسانی حقوق کو پامال کرتا رہے۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ محض تجارتی تعلقات کا نہیں بلکہ اسرائیل کی خصوصی حیثیت کا ہے جو اب خطرے میں ہے۔

اسرائیلی حکومت کو اندرونِ ملک بھی سخت مخالفت کا سامنا ہے، باقاعدہ احتجاج ہو رہے ہیں اور جنگ بندی کے لیے بڑھتی ہوئی آوازیں بلند ہو رہی ہیں تاکہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں پکڑے گئے یرغمالیوں کو واپس لایا جا سکے۔

اسی دوران، گزشتہ دو دہائیوں سے فلسطینی سول سوسائٹی کی قیادت میں چلنے والی بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے انخلا اور پابندیوں (بی ڈی ایس) کی مہم نے جنوبی افریقہ ماڈل کی طرز پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ اس کی کامیابی محدود رہی تھی، لیکن غزہ کی جنگ کے بعد یہ تحریک مزید زور پکڑ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی پیش رفت

اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسرائیل کی عالمی سطح پر مزید تنہائی کو نمایاں کیا۔

کینیڈا، فرانس اور برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رابرٹ سیٹلوف کی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2025 کے درمیان جنرل اسمبلی میں اسرائیل سے متعلق قراردادوں پر ووٹ دینے کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے دیرینہ حمایتی ممالک بھی اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

ان کے بقول، کئی ممالک جو عموماً ووٹنگ میں غیرحاضر رہ کر اسرائیل کی حمایت کرتے تھے، اب اس روش سے بھی ہٹ رہے ہیں۔

سیٹلوف نے کہا کہ اگرچہ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ خاموش تعلقات برقرار رکھتے ہیں، لیکن یہ رجحان اسرائیل کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کی یہ بڑھتی ہوئی تنہائی قابلِ تلافی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک پہلے ہی اسرائیل کے خلاف گہری دشمنی رکھتے تھے، جبکہ دیگر موجودہ غزہ جنگ کے واقعات سے متاثر ہو کر اسرائیلی رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ جنگ ختم ہونے یا اسرائیل میں نئی حکومت آنے کے بعد ان کا مؤقف نرم ہو جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی کمیشن کی غزہ میں نسل کشی پر رپورٹ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی تحقیقات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کو اس کیس میں نسل کشی کے پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔

گزشتہ سال ہیگ کی عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے جس کے بعد ان کے سفر پر سخت پابندیاں لگ گئی ہیں۔ اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے لیے نیتن یاہو کے طیارے نے فرانسیسی اور ہسپانوی فضائی حدود سے گریز کرتے ہوئے طویل راستہ اختیار کیا تاکہ ان ممالک سے بچا جا سکے جو ان کے خلاف وارنٹ نافذ کر سکتے ہیں۔

اگرچہ دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل سے دور جا رہے ہیں، لیکن امریکہ بدستور اس کا سب سے مضبوط حامی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قطر میں اسرائیلی حملے پر کہا کہ صدر نے اپنی رائے واضح طور پر دے دی ہے کہ وہ اس واقعے کے طریقۂ کار سے خوش نہیں تھے، لیکن… ہمارا اسرائیل کے ساتھ تعلق مضبوط رہے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین