پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کی ایک دوسرے...

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کی ایک دوسرے پر نکتہ چینی
ا

نیویارک(مشرق نامہ): اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور بھارت کی روایتی رقابت ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آئی، حالانکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی موجود نہیں تھے۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان تنازعات اکثر جنرل اسمبلی کے اجلاس پر چھائے رہے ہیں، خاص طور پر جب دونوں وزرائے اعظم خطاب کرتے ہیں۔

اس سال کے 80ویں اجلاس میں وزرائے اعظم کا براہِ راست آمنا سامنا تو نہیں ہوا، مگر “رائٹ آف ریپلائی” کے دوران گرما گرمی ضرور دیکھنے کو ملی۔


شہباز شریف کی دوٹوک یاد دہانی

وزیراعظم شہباز شریف نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازعے کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے جھڑپوں کے دوران “بھارت کے سات طیارے مار گرائے۔”

انہوں نے جنگ بندی کرانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہا، انہیں “امن کا آدمی” قرار دیا اور بتایا کہ پاکستان نے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق، جنگ بندی کی درخواست بھارت نے ہی امریکہ سے کی تھی — جو بھارت کے بیانیے پر ایک لطیف وار تھا۔


بھارت کا ردعمل

بھارت کی پہلی سیکرٹری پَیٹل گہلوت نے رائٹ آف ریپلائی کا استعمال کرتے ہوئے شہباز شریف کے دعوے کو مسترد کر دیا کہ بھارتی طیارے گرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی افواج نے پاکستان کے فضائی اڈوں کو شدید نقصان پہنچایا اور دعویٰ کیا کہ “پاکستان نے آپریشن سندور کے دوران نقصان اٹھانے کے بعد ہی جنگ بندی کی درخواست کی۔”


پاکستان کا جواب

پاکستان کی کاؤنسلر، سائمہ سلیم نے سخت جواب دیا۔ انہوں نے گہلوت کے اس دعوے کو رد کر دیا کہ بھارت نے جنگ جیت لی تھی اور اسے “ایک گھڑا ہوا بیانیہ” قرار دیا جس کا مقصد بھارت کی میدانِ جنگ میں ناکامی کو چھپانا تھا۔

انہوں نے کہا:
“ہمیں ایسے ملک کا جواب دینا پڑ رہا ہے جو کبھی خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ظاہر کرتا ہے اور کبھی دنیا کی سب سے بڑی ڈس انفارمیشن فیکٹری بن کر سامنے آتا ہے۔”

سائمہ سلیم نے بھارت پر ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کرنے کا الزام لگایا، چاہے وہ اپنے ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک:
“بھارت واحد ملک ہے جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے، اندرونِ ملک خوف پھیلاتا ہے اور دوسروں کو اپنی سرحدوں کے باہر غیر مستحکم کرتا ہے۔”

مئی کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:“جب بھارت کی مہم جوئی شکست سے دوچار ہوئی تو اس نے بہانے تراشے، مگر حقیقت چھپ نہیں سکتی تھی۔ پاکستان نے اپنی خودمختاری کا دفاع کیا اور زیادہ مضبوط عزم و تیاری کے ساتھ سامنے آیا۔”


بھارت کی مزید تنبیہ

ایجنسیوں کے مطابق بھارت نے ہفتے کے روز دنیا کو خبردار کیا کہ وہ “دہشت گردی کی حمایت” پر آنکھیں بند نہ کرے۔

پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی اپیل کے ایک دن بعد، بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف “بہت زیادہ گہرے عالمی تعاون” کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا:“آزادی کے بعد سے بھارت کو اس چیلنج کا سامنا ہے کہ اس کا ایک پڑوسی عالمی دہشت گردی کا مرکز ہے۔”جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ دہائیوں سے بڑے بڑے بین الاقوامی دہشت گرد حملوں کا سراغ “اسی ایک ملک” تک جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا:“جو ممالک دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والوں کو برداشت کرتے ہیں، ایک دن یہی زہر ان کے اپنے دروازے پر بھی واپس آئے گا۔

جے شنکر نے کہا کہ بھارت نے “اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کے حق کو استعمال کیا ہے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین