پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیبھارتی ایجنٹ نے کرائے کے قاتل کو ہتھیاروں سے بھرا طیارہ دینے...

بھارتی ایجنٹ نے کرائے کے قاتل کو ہتھیاروں سے بھرا طیارہ دینے کا وعدہ کیا
ب

نیویارک(مشرق نامہ): امریکی وفاقی عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق، ایک بھارتی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے نہ صرف مبینہ طور پر ایک بھارتی شہری کو پاکستان، نیپال اور امریکہ میں قتل کرنے کے لیے کرائے پر رکھا بلکہ اسے یہ بھی وعدہ کیا کہ وہ اسے قتل کی کارروائی کے لیے ہتھیاروں سے بھرا ایک طیارہ فراہم کرے گا۔

عدالتی ریکارڈ میں ظاہر ہونے والے نئے الزامات کے مطابق، مبینہ قاتل نکھل گپتا پر منی لانڈرنگ، کریڈٹ کارڈ فراڈ، منشیات و اسلحہ اسمگلنگ اور پاکستان یا نیپال میں ایک شخص کے قتل کی کوشش جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ قتل کا منصوبہ صرف نیویارک تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں نیپال یا پاکستان میں ایک اور ہدف کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔

پراسیکیوٹرز کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے سابق افسر وکاش یادو نے گپتا کو یقین دلایا تھا کہ وہ اسے ہتھیار فراہم کرے گا اور حتیٰ کہ ایک طیارے کو اسلحہ لے جانے کے لیے کلیئرنس بھی دلوائے گا۔ یہ اس لیے تھا تاکہ گپتا وہ اسلحہ ایک ایسے شخص کو بیچ سکے جسے وہ اسمگلر سمجھتا تھا، اور وہ شخص اس کے لیے ایک کرائے کا قاتل ڈھونڈے تاکہ امریکہ میں ایک سکھ علیحدگی پسند کو قتل کیا جا سکے۔

واٹس ایپ پیغامات (22 جون 2023) کے مطابق یادو نے وعدہ کیا کہ وہ “آٹومیٹک رائفلیں اور پستولیں” فراہم کرے گا اور “ہتھیاروں سے لدے طیارے کے کلیئرنس کا انتظام کرے گا۔”

26 جون کو گپتا نے دوبارہ پیغام بھیجا اور ہتھیاروں کو "toys” (کوڈ ورڈ) کہہ کر ان کی صورتحال پوچھی۔ پراسیکیوٹرز کے مطابق یادو نے جواب دیا کہ وہ قتل مکمل ہونے کے بعد ہتھیار فراہم کرے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ یادو کی حمایت پَنّون کے قتل سے مشروط تھی اور اسلحہ کی فراہمی کا وعدہ براہ راست قتل کے منصوبے سے جڑا ہوا تھا۔

مئی 2023 میں یادو نے گپتا کو ہدایت دی تھی کہ “میرا نام اَمن کے طور پر محفوظ کرو۔” اسی دوران اس نے گپتا کو بتایا کہ کئی اہداف ہیں، جن میں نیویارک، کیلیفورنیا اور پتوں کے ذریعے اشارہ کیے گئے نیپال یا پاکستان کے مقامات بھی شامل ہیں۔

نیپال سے متعلق گفتگو میں یادو نے گپتا کو ہدف کا مقام دیا تاکہ وہ ہٹ مین (جسے گپتا “سپاہی” کہتا تھا) کو آگے پہنچا سکے۔ 8 مئی کو گپتا نے یادو کو لکھا کہ لوگ “نیپال پہنچ چکے ہیں اور ہدف کو تلاش کر رہے ہیں۔” یادو نے ادائیگی بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ یہ کام “انتہائی ضروری” ہے۔ ایک پیغام میں اس نے ہدایت دی: “اگر وہ واقعی ہدف کو پکڑ لیں تو اسے قتل کر دیں۔ ورنہ ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔”

استغاثہ کے مطابق نیپال کے حوالے سے یہ بات چیت نیویارک والے منصوبے سے بہت مشابہ تھی، اس لیے اسے پَنّون کے قتل کے منصوبے جیسا ہی قرار دیا گیا۔


نکھل گپتا کی گرفتاری اور حوالگی

53 سالہ نکھل گپتا، جسے “نِک” بھی کہا جاتا ہے، 30 جون 2023 کو جمہوریہ چیک میں گرفتار ہوا اور امریکہ-چیک معاہدے کے تحت اسے امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ وہ 14 جون کو امریکہ پہنچا اور قتل کے لیے کرائے پر قاتل رکھنے کے الزام میں عدالت میں پیش ہوا۔

امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا کہ یہ حوالگی واضح کرتی ہے کہ محکمہ انصاف “امریکی شہریوں کو خاموش کرنے یا نقصان پہنچانے کی کوشش برداشت نہیں کرے گا۔” نائب اٹارنی جنرل لیزا موناکو نے اس منصوبے کو “ایک سیاسی کارکن کو اُس کے آزادیِ اظہار کے حق سے محروم کرنے کی ڈھٹائی پر مبنی کوشش” قرار دیا۔

ایف بی آئی ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے زور دیا کہ “بیورو کسی بھی غیر ملکی یا کسی اور کو امریکہ میں آئینی آزادیوں کو دبانے کی اجازت نہیں دے گا۔”

امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کی ایڈمنسٹریٹر این ملگرام نے کہا کہ یہ کامیابی “ڈی ای اے نیویارک ڈویژن کی منشیات مخالف فورس کی محنت کا نتیجہ ہے” اور جمہوریہ چیک سمیت بین الاقوامی تعاون کو سراہا۔


قتل کا منصوبہ

عدالتی دستاویزات کے مطابق گپتا نے ایک بھارتی سرکاری ملازم (جسے CC-1 کہا گیا) کے ساتھ مل کر امریکہ میں مقیم ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو نشانہ بنانے کی سازش کی۔ یہ CC-1 مبینہ طور پر "را” کا سابق افسر تھا جسے ہتھیار اور جنگی مہارت کی تربیت حاصل تھی اور وہ بھارت سے ہی منصوبے کی نگرانی کر رہا تھا۔

گپتا، جو بھارت میں رہائش پذیر اور منشیات و اسلحہ اسمگلنگ میں پہلے بھی ملوث تھا، نے کرائے کے قاتل کا بندوبست کرنے کی کوشش کی تاکہ امریکی شہری کو قتل کیا جا سکے۔ لیکن وہ شخص دراصل DEA کا خفیہ افسر تھا۔ CC-1 نے مبینہ طور پر اس قتل کے عوض 100,000 ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس میں سے 15,000 ڈالر جون 2023 میں مین ہیٹن میں پیشگی ادا کیے گئے۔

منصوبے میں ہدف کی نگرانی بھی شامل تھی۔ گپتا نے CC-1 کو تصاویر اور اپ ڈیٹس بھیجیں اور خفیہ اہلکار کو ہدایت دی کہ قتل کو امریکہ-بھارت سفارتی مصروفیات کے دوران انجام نہ دیا جائے۔


نجر کے قتل کا تعلق

18 جون 2023 کو نقاب پوش افراد نے ہرپال سنگھ نجر کو، جو اس ہدف سے منسلک اور سکھ علیحدگی پسند تحریک کا رہنما تھا، کینیڈا کے شہر برٹش کولمبیا میں ایک سکھ گردوارے کے باہر قتل کر دیا۔ گپتا نے خفیہ اہلکار کو بتایا کہ نجر “بھی ہدف تھا” اور زور دیا کہ کئی ممکنہ اہداف موجود ہیں۔ بعد میں CC-1 نے گپتا کو اصل ہدف پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی۔

گپتا پر قتل کے لیے کرائے پر قاتل رکھنے اور قتل کی سازش کے الزامات ہیں، جن میں سے ہر ایک الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ مقدمہ نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں چلایا جا رہا ہے اور ایف بی آئی و ڈی ای اے اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کا بین الاقوامی امور کا دفتر چیک حکام کے ساتھ رابطے میں رہا تاکہ گپتا کی گرفتاری اور حوالگی ممکن ہو سکے۔ قومی سلامتی ڈویژن اور امریکی اٹارنی آفس کے وکلاء مقدمے کو دیکھ رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین