پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ اجلاس 2025: پاکستان، بنگلہ دیش کا قبل از 1967 فلسطینی...

اقوام متحدہ اجلاس 2025: پاکستان، بنگلہ دیش کا قبل از 1967 فلسطینی سرحدوں پر مطالبہ
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے چوتھے دن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ریکارڈ توڑ واک آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں ہال میں واپس آنے والے مندوبین کو اسرائیل کے غزہ میں جاری نسل کشی پر شدید مذمتوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں پاکستان اور آئرلینڈ کی قیادت نمایاں تھی۔

پاکستان: فلسطین کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی بنیاد پر مقرر ہوں

وزیر اعظم شہباز شریف نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطین کو کسی کم تر بنیاد پر نہیں بلکہ "1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس شریف کو اس کے دارالحکومت” کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اب مزید اسرائیلی زنجیروں میں جکڑا نہیں رہ سکتا، اسے آزاد کرانا ہوگا۔ فلسطینی عوام قریب 80 برس سے اسرائیلی قبضے اور ظلم سہہ رہے ہیں، جبکہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد کار کھلے عام دہشت گردی اور قتل کرتے ہیں اور کوئی ان سے باز پرس نہیں کرتا۔

شہباز شریف نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو "انسانی تاریخ کا سیاہ ترین باب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عورتوں اور بچوں کے خلاف ایسی دہشت گردی اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے چھ سالہ ہند رجاب کے واقعے کا خصوصی ذکر کیا، جو اسرائیلی فوج کی براہِ راست فائرنگ میں اپنے خاندان کے ساتھ شہید ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کیا ہم اس بچی کو اپنی بیٹی سمجھ کر سوچ سکتے ہیں؟ کیا ہم اتنے بے حس ہیں کہ اس کی زندگی بھی نہ بچا سکے؟ یہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔

بنگلہ دیش: انتہا پسند قوم پرستی دنیا کو بربادی کی طرف لے جا رہی ہے

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ انتہا پسند قوم پرستی اور دوسروں کے دکھ پر پنپنے والی جیو پالیٹکس، انسانیت کی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کردہ ترقی کو تباہ کر رہی ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کا نام لیے بغیر غزہ کی نسل کشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہ تاریخ اور نہ ہی آنے والی نسلیں ہمیں معاف کریں گی۔
یونس نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے "1967 سے قبل کی سرحدوں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت” قرار دینے پر زور دیا۔

آئرلینڈ: اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے

آئرلینڈ کے وزیراعظم میشل مارٹن نے غزہ میں اسرائیلی جرائم پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نسل کشی روکنے اور اسرائیل کو جوابدہ بنانے کے لیے ہر سفارتی اور قانونی ذریعہ استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نسل کشی کے کنونشن پر دستخط کرنے والے تمام ممالک اس کے خلاف کارروائی کے پابند ہیں۔ یہ قانونی و اخلاقی فریضہ ہے اور اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئرلینڈ اسرائیلی وزراء کو اپنے ملک میں داخلے سے روکے گا، غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیاء کی تجارت پر پابندی کے قانون پر غور جاری ہے، اور اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمات کی حمایت کی جائے گی۔

مالٹا: امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں

مالٹا کے وزیر اعظم رابرٹ ایبیلا نے کہا کہ ان کا ملک اپنی جغرافیائی حیثیت اور غیر جانب داری کے باعث دنیا کے پیچیدہ تنازعات میں ثالثی کے لیے بہترین پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں جاری "انسانی المیہ فوراً ختم ہونا چاہیے۔”
انہوں نے ایک پندرہ سالہ فلسطینی بچے ابراہیم کا ذکر کیا جسے مالٹا علاج کے لیے لایا گیا ہے اور جس نے ڈرون حملے میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو دیں۔ ایبیلا نے کہا کہ "اگر ہم خاموش رہیں تو ہم بھی اس جرم کے شریک ہوں گے۔”

یہ اجلاس اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آوازیں اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں، خاص طور پر غزہ میں نسل کشی کے بعد۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین