پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیجہاں مذہب اور سوشلسٹ فکر ملتی ہے: سید حسن نصر اللہ کا...

جہاں مذہب اور سوشلسٹ فکر ملتی ہے: سید حسن نصر اللہ کا ورثہ
ج

سید حسن نصر اللہ کی شخصیت اس بات کی مظہر تھی کہ بائیں بازو کی انقلابی فکر اور اسلامی اصول ایک ہی راستے پر آ کر سماجی انصاف اور مزاحمت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ حزب اللہ کی سماجی اور فلاحی سرگرمیوں نے مذہبی اتھارٹی کو عوامی خدمت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ یہ ادارے نہ صرف شیعہ برادری بلکہ تمام لبنانی شہریوں کے لیے سہارا بنے۔ فرق صرف نظریے کا ہے: مارکسسٹ لیننسٹ جماعتیں طبقاتی جدوجہد پر کھڑی ہیں جبکہ حزب اللہ کی اساس دینی اصولوں اور فریضۂ مزاحمت پر ہے۔ تاہم عملی طور پر دونوں ایک ایسی منظم، ہمہ جہت تحریک تشکیل دیتی ہیں جو عوام کو تحفظ، حکمرانی اور سماجی سہولیات فراہم کر سکے۔

1987 میں سید حسن نصر اللہ کو بیروت میں حزب اللہ کی کارروائیوں کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے جنوبی مضافات میں شیعہ آبادیوں کے درمیان تنظیمی صلاحیت اور مذہبی جواز کو یکجا کرتے ہوئے جماعت کی فوجی اور سیاسی کوششوں کو مستحکم کیا۔ 1992 میں سید عباس موسوی کی شہادت کے بعد نصر اللہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بنے اور جماعت کو ایک واضح حکمت عملی، نظم و ضبط اور اخلاقی قیادت کے ساتھ آگے بڑھایا۔

ان کی قیادت میں حزب اللہ نے ایک ہائبرڈ ڈھانچہ اختیار کیا:

شوریٰ کونسل: اعلیٰ قیادت کا ادارہ جو مذہبی اور عسکری شخصیات کو یکجا کرتا ہے۔

انتظامی شعبے: فوجی، سیاسی اور سماجی و فلاحی ونگز جن میں تعلیم، صحت اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔

یہ ڈھانچہ روس میں بالشویک انقلاب کے ماڈل سے مشابہ دکھائی دیتا ہے، جہاں اعلیٰ قیادت، مسلح بازو، عوامی تنظیمیں اور سماجی ادارے یکجا تھے۔

مذہبی اصول اور سوشلسٹ مماثلتیں

سید حسن نصر اللہ نے اسلامی تعلیمات کو سماجی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے مزاحمت اور فلاح کو دینی فریضہ قرار دیا۔

عدل (Justice): غربت یا کرپشن کو الٰہی قانون کی خلاف ورزی سمجھتے تھے۔

تعاون (Solidarity): قرآن کے حکم "تعاونوا علی البر والتقویٰ” کو فلاحی و تعلیمی اداروں کی بنیاد بنایا۔

جہاد ضد ظلم: صرف جنگ نہیں بلکہ غربت، کرپشن اور سامراجی تسلط کے خلاف جدوجہد۔

فرضِ کفایہ: حزب اللہ کے سماجی منصوبے ریاست کی کوتاہیوں کو پورا کرتے ہیں۔

اسلامی عبادات اور معیشتی اصول بھی اس ڈھانچے کا حصہ تھے:

زکوٰۃ اور خمس: دولت کی منصفانہ تقسیم۔

وقف: عوامی ملکیت کی صورت۔

سود کی ممانعت: استحصالی معیشت پر تنقید۔

سید حسن کی قیادت میں حزب اللہ کے تعلیمی ادارے، اسپتال اور فلاحی منصوبے نہ صرف مذہبی خدمت تھے بلکہ سماجی انصاف اور مزاحمت کا عملی نمونہ بھی۔

جسم گرتے ہیں، مگر افکار باقی رہتے ہیں

27 ستمبر 2024 کو حزب اللہ نے سید حسن نصر اللہ کی شہادت کا اعلان کیا۔ وہ لبنانی عوام اور دنیا بھر کے انقلابیوں کے لیے والد، رہنما اور امید کا سرچشمہ سمجھے جاتے تھے۔ ان کا ورثہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہب اور سوشلسٹ فکر بیک وقت ایک رہنمائی میں ڈھل سکتے ہیں۔ جیسا کہ غسان کنفانی نے کہا تھا: “اجسام گرتے ہیں مگر خیالات باقی رہتے ہیں”۔ سید حسن بھی بارہا یہ بات دہراتے رہے کہ رہنما شہید ہو سکتے ہیں مگر مزاحمت کا سفر جاری رہتا ہے۔

یوں ان کا نام اور فکر ہمیشہ اس حقیقت کی علامت رہے گی کہ متوازی راستے ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین