پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے سفیروں کو واپس بلا لیا

ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے سفیروں کو واپس بلا لیا
ا

ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی سے سفیروں کو واپس بلا لیا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ایران نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ اقدام ان تین یورپی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منسوخ شدہ قراردادوں کو دوبارہ نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب روس اور چین سلامتی کونسل میں ان پابندیوں کی بحالی کو مؤخر کرانے میں ناکام رہے۔ پندرہ رکنی کونسل میں صرف چار ممالک نے ان کی قرارداد کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں ایران پر دوبارہ عالمی پابندیاں عائد ہونے کا راستہ ہموار ہوا۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک ماہ قبل ایران پر "اسنیپ بیک” میکانزم لاگو کیا تھا، الزام لگاتے ہوئے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر شفافیت اختیار نہیں کر رہا، خاص طور پر ان جوابی اقدامات کے بعد جو تہران نے جون میں امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے جواب میں کیے تھے، جس میں ایرانی حکام کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ نئی پابندیاں اتوار کو 00:00 جی ایم ٹی سے نافذ ہو جائیں گی، جن میں ایران کے ساتھ ایٹمی، فوجی، بینکاری اور شپنگ شعبوں میں عالمی تعاون پر مکمل پابندی شامل ہوگی۔ اس اعلان کے بعد ایران کی کرنسی ریال ریکارڈ کم ترین سطح پر گر گئی اور کھلے بازار میں ایک امریکی ڈالر کے بدلے 11 لاکھ ریال سے زائد میں فروخت ہوا۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے جمعے کو بتایا کہ ایران میں کچھ معائنوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ان سائٹس پر بھی معائنہ کیا گیا جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا اور جہاں ایٹمی مواد دفن ہوسکتا ہے۔ ماسکو میں عالمی ایٹمی ہفتہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے ایجنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے ان حملوں کی مذمت کرنے سے انکار کیا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کی جانب سے اسنیپ بیک کو مؤخر کرنے کی کم از کم دو تجاویز مغربی طاقتوں نے مسترد کر دیں۔ مغرب نے کہا کہ انہیں خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ کسی معاہدے کی ضرورت نہیں جب امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران کے نظام کو گرانا ہے۔ ان کے بقول "اگر مقصد ایٹمی پروگرام پر خدشات دور کرنا ہوتا تو ہم اسے آسانی سے کر سکتے تھے۔” انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

پزشکیان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ یورپی ممالک کو کسی سمجھوتے پر نہ پہنچنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ امریکہ ایران کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا اور مزید بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسنیپ بیک کو "درست علاج” قرار دیا۔

روس کے نائب مندوب دمتری پولیانسکی نے کہا کہ ماسکو ان پابندیوں کو "غیر قانونی اور کالعدم” سمجھتا ہے۔

امریکہ اور یورپی ممالک پہلے ہی ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر چکے ہیں اور دیگر ملکوں کو ایرانی تیل خریدنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم چین کی کمپنیاں اس دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایران سے تیل خرید رہی ہیں، جس پر امریکہ نے متعدد چینی اداروں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

یہ نئی پابندیاں 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت معطل کی گئی اقوام متحدہ کی پابندیوں کا دوبارہ نفاذ ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں اس معاہدے سے نکل کر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اختیار کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ سے خطاب میں اسنیپ بیک میں کسی تاخیر کے خلاف کہا اور اشارہ دیا کہ اسرائیل دوبارہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ ایران پابندیوں کے جواب میں ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے سے نہیں نکلے گا لیکن خبردار کیا کہ بعض طاقتیں "سطحی بہانے” ڈھونڈ رہی ہیں تاکہ خطے کو آگ لگا سکیں۔

اسی دوران پاسداران انقلاب اسلامی نے بیروت میں گزشتہ برس اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہونے والے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ، جنرل عباس نیلفروشان اور دیگر کی برسی پر بیان میں کہا کہ "فعال اور ہوشیار مزاحمت” ہی خطے میں اسرائیلی توسیع پسندی کے مقابلے کا واحد راستہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے "شیطانی منصوبوں” میں ناکام ہو چکے ہیں۔

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی بھی اس موقع پر لبنان میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام ملکوں پر واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل "کسی پر رحم نہیں کرتا۔”

دوسری جانب ایرانی عدلیہ نے اعلان کیا کہ چار افراد کو موساد اور مجاہدین خلق (ایم ای کے) کے لیے جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ ہونے پر سزا سنائی گئی ہے۔ ان میں سے دو کو سزائے موت اور دو کو عمر قید دی گئی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین