پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایران اپنے ایٹمی راستے پر خود چلے گا٬ اعلیٰ توانائی عہدیدار

ایران اپنے ایٹمی راستے پر خود چلے گا٬ اعلیٰ توانائی عہدیدار
ا

تہران (مشرق نامہ) – ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ ایران بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے پُرامن ایٹمی پروگرام کو جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے بعد تہران نے ایٹمی معائنوں پر تعاون روکنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے تحت موجود "اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کیا، جس کے نتیجے میں ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال ہو گئیں اور ایران و عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان معائنوں کی بحالی سے متعلق حالیہ معاہدہ متاثر ہو گیا۔

محمد اسلامی نے مغرب پر دوہرے معیار اور معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ یکطرفہ طور پر اپنے وعدے پورے کرتا رہا ہے لیکن مغربی طاقتوں نے کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو مسلسل "پابندیوں، جارحیت، جنگ، تنازع اور سازش” کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسلامی نے امریکی حکام کے ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام ختم کرنے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات "ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، ہم کسی کے احکامات نہیں مانتے۔”

انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ پُرامن رہا ہے اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں سے ایران کا پروگرام تباہ ہو گیا۔ ان کے بقول "کچھ افراد اور عمارتیں ختم ہو سکتی ہیں مگر علم ہمارے سائنسدانوں کے ذہنوں اور روحوں میں ہے، جسے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

روس اور چین نے ایران پر نئی پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں روسی مندوب نے کہا کہ ماسکو "اسنیپ بیک” طریقہ کار کو قانونی طور پر نہیں مانتا۔ تہران نے بھی دعویٰ کیا کہ 130 سے زائد ممالک نے اس کے ایٹمی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے، جو دنیا کی اکثریت کی ایران کے مؤقف کے ساتھ ہم آہنگی ظاہر کرتا ہے۔

محمد اسلامی نے آخر میں کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے بقول٬ ہمارا راستہ اور ہمارا پروگرام واضح ہے۔ یہ پابندیوں، حملوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران کے کنٹرول میں جاری رہے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین