واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی ذرائع کے مطابق امریکہ وینیزویلا کے اندر مبینہ منشیات فروشوں کے خلاف فضائی حملوں کے "اختیارات تیار” کر رہا ہے۔ این بی سی نے یہ اطلاع نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے وینیزویلا کے ساحل کے قریب کم از کم تین کشتیوں کو ڈبو دیا، جن پر منشیات لانے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اور ان کارروائیوں میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔ وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے منشیات سے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کی ہے اور ان حملوں کو اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کی امریکی کوشش قرار دیا ہے۔
این بی سی نے ہفتے کو بتایا کہ وینیزویلا پر بمباری "چند ہفتوں کے اندر” ہو سکتی ہے، تاہم اس اقدام کی تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منظوری نہیں دی گئی۔
حکام کے مطابق واشنگٹن میں زیر غور منصوبے زیادہ تر ڈرون حملوں پر مشتمل ہیں جو منشیات کی لیبارٹریوں اور ان گروہوں کے ارکان و رہنماؤں کو نشانہ بنائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حلقے اس بات پر مایوس ہیں کہ کیریبین میں امریکی جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کی تعیناتی اور کشتیوں پر حملے مادورو کی طاقت کو کمزور نہیں کر سکے اور نہ ہی اس سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے آیا۔
ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے این بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ منشیات کی یلغار کو روکنے اور اس کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے امریکی طاقت کے ہر ذریعے کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ اور وینیزویلا کے درمیان مشرق وسطیٰ کے نامعلوم ثالثوں کے ذریعے بات چیت جاری ہے اور مادورو نے مبینہ طور پر کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹرمپ کو کچھ رعایتیں دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔
جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں وینیزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سروں پر غیر قانونی اور مکمل طور پر غیراخلاقی فوجی دھمکی منڈلا رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے زور دیا کہ کراکس اس نام نہاد "سامراجی جارحیت” کا مقابلہ کرے گا اور عالمی برادری سے حمایت کی اپیل کی۔

