پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیصنعاء میں سید نصراللہ کی پہلی برسی، مزاحمت جاری رکھنے کا عہد

صنعاء میں سید نصراللہ کی پہلی برسی، مزاحمت جاری رکھنے کا عہد
ص

صنعاء (مشرق نامہ) – یمن کے دارالحکومت صنعاء نے ہفتے کے روز حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصراللہ کی شہادت کی پہلی برسی پر ایک بڑا مرکزی اجتماع منعقد کیا۔ اس موقع پر وسیع عوامی اور سرکاری شرکت دیکھنے میں آئی، جہاں شرکاء نے اس رہنما کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا جنہیں استقامت اور جہاد کی علامت قرار دیا گیا، اور کہا کہ ان کی شہادت نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔

قائم مقام وزیر اعظم اور عالم دین محمد مفتاح نے خطاب میں سید نصراللہ کو "عصر حاضر کی سب سے نمایاں عرب اور اسلامی شخصیت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شہید کرنے کی سازشوں پر دشمنوں نے تقریباً دس ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جن میں خلیجی ممالک کی طرف سے صہیونی منصوبے کی خدمت میں دی جانے والی رقوم بھی شامل تھیں۔

مفتاح نے کہا کہ سید نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ نے وفاداری، اقدار اور بے مثال جرات مندانہ موقف کی ایک تاریخ چھوڑی۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ "صہیونی جارحیت” صنعاء پر اپنے ایجنٹوں کو جیلوں سے آزاد کرانے کے لیے کی گئی مگر ناکام رہی، اور اب 21 ستمبر کے انقلاب کے دشمن صہیونیت کی خدمت کر رہے ہیں۔

یمنی علما کی انجمن کے رکن فواد ناجی نے کہا کہ آج ہم اس شخصیت کو یاد کر رہے ہیں جس نے ایک ایسے دور میں جہاد کا پرچم بلند کیا جب اطاعت اور غلامی عام تھی، اور جو اس وقت یمن کے ساتھ کھڑے ہوئے جب اکثر نے اسے تنہا چھوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سید نصراللہ یمنی عوام کی یادوں میں محض ایک مزاحمتی رہنما نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی اقدار کی علامت کے طور پر بھی زندہ رہیں گے۔

عوامی کانگریس پارٹی کی جنرل کمیٹی کے رکن حسین حازب نے زور دیا کہ سید نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ نے لبنان کی سرزمین عسکری قوت سے آزاد کرائی، "جو پورے عرب افواج بھی نہ کر سکیں۔” انہوں نے کہا کہ ہم اسلام اور انسانیت کے شہید کو خراج عقیدت ان کے راستے پر چل کر اور اس جہادی طرزِ عمل کو محفوظ رکھ کر پیش کریں گے جو امت کی عزت اور وقار کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ اجتماع اس حقیقت کا اظہار تھا کہ سید نصراللہ امت مسلمہ کے ضمیر میں کس مقام پر فائز ہیں اور مزاحمت کے راستے پر نئے سرے سے عہد کی تجدید ہے۔ اس موقع سے واضح پیغام دیا گیا کہ امریکی-صہیونی منصوبے کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ ناقابلِ واپسی ہے اور یمنی عوام تمام مزاحمتی علامتوں کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہیں۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سید نصراللہ کا خون امت کے وقار کے جذبے کو جلا بخشتا رہے گا، اور ان کی شہادت آزادی کی جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ ان کی اقدار اور موقف آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔

آج 27 ستمبر سید حسن نصراللہ کی شہادت کی پہلی برسی ہے۔ وہ حزب اللہ کے طویل المدتی رہنما، "محورِ مزاحمت” کے اہم ستون اور لبنانی و علاقائی سیاست کے مرکزی کردار رہے۔ ایک سال قبل اسرائیلی طیاروں نے 85 ٹن بارود استعمال کرتے ہوئے ضاحیہ کے چھ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ حملہ ایک ہفتے کی شدید بمباری کے بعد کیا گیا جس میں جنوبی لبنان سے بیروت تک کئی علاقے نشانہ بنے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین