پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیایران و روس کا 25 ارب ڈالر کا جوہری توانائی معاہدہ

ایران و روس کا 25 ارب ڈالر کا جوہری توانائی معاہدہ
ا

مشرقِ وسطیٰ (مشرق نامہ) – ایران اور روس نے 25 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت چار جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی جائے گی۔ یہ طویل المدتی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔

یہ معاہدہ جمعہ کو ماسکو میں ایران ہرمز کمپنی اور روسی روزاٹم پراجیکٹ کمپنی کے درمیان طے پایا۔ معاہدے کے تحت صوبہ ہرمزگان کے ساحلی قصبے سیریک میں جدید تیسری نسل کے چار جوہری یونٹ تعمیر کیے جائیں گے۔

معاہدے پر ایران ہرمز کمپنی کی جانب سے ناصر منصور شریف لو نے ایٹمی توانائی تنظیم ایران (AEOI) کی نمائندگی کرتے ہوئے دستخط کیے، جبکہ روسی سرکاری کمپنی روزاٹم کی ذیلی کمپنی REP کے نمائندے دمتری شیگانوف نے اس معاہدے کو مکمل کیا۔ دستخطوں کی تقریب میں روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی بھی موجود تھے۔

یہ منصوبہ کوہستک ضلع، سیریک ریجن میں 500 ہیکٹر رقبے پر قائم کیا جائے گا اور اس کی مجموعی پیداواری صلاحیت 5 ہزار 20 میگاواٹ ہوگی۔

تقریب میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ ایران اور روس کے درمیان پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کے شعبے میں مشترکہ تعاون کے فروغ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سائٹ سلیکشن اسٹڈیز مکمل ہو چکی ہیں جبکہ انجینئرنگ، ماحولیاتی جائزے اور سائٹ کی تیاری کے ابتدائی مراحل بھی انجام دیے جا چکے ہیں جو حتمی مرحلے میں ہیں۔

ایران اور روس کے درمیان بین الحکومتی معاہدے کے تحت مجموعی طور پر آٹھ جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کی جائے گی، جن میں سے چار بوشہر میں قائم ہوں گے۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے بدھ کو ماسکو میں روزاٹم کے سی ای او الیکسی لیخاچیف سے ملاقات کے بعد اس منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے درمیان جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت تھی اور اب اس عمل کو 20 سالہ اسٹریٹجک پلان کے تحت نئے مرحلے میں داخل کیا جا رہا ہے۔

اسلامی نے واضح کیا کہ ایران کا ہدف جوہری توانائی سے 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بوشہر کے دوسرے اور تیسرے یونٹس پر روسی کمپنیوں کا کام جاری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ تہران اور ماسکو دونوں کے لیے اولین ترجیح ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے صدور کی جانب سے اس پر دیے گئے زور نے منصوبے کی پیشرفت کو تیز کیا ہے، اور جاری مذاکرات اس مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین