مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیرِاعظم لی کی چیانگ نے جمعہ کے روز عالمی برادری کو ’سرد جنگ ذہنیت‘ میں واپسی کے خطرے سے خبردار کیا اور کثیرالجہتی اور آزاد تجارت کے دفاع میں مؤقف اپنایا، جو بظاہر امریکہ پر تنقید تھی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا ایک نئے دور کے ہنگامہ اور تبدیلی میں داخل ہوچکی ہے۔ ’’یکطرفہ رویے اور سرد جنگ ذہنیت دوبارہ ابھر رہی ہے۔ پچھلے 80 برسوں میں قائم کیا گیا عالمی نظام اور ضابطے سنگین چیلنجز کا شکار ہیں اور وہ نظام جو کبھی مؤثر تھا اب مسلسل متاثر ہورہا ہے۔ انسانیت ایک بار پھر چوراہے پر کھڑی ہے۔‘‘
چینی وزیرِاعظم نے محصولات (ٹیرِف) بڑھانے کے عمل کو عالمی معیشت کے بحران کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کے بقول، ’’یکطرفہ اور تحفظاتی اقدامات جیسے محصولات میں اضافہ اور رکاوٹیں کھڑی کرنا عالمی معیشت کی سست روی کا بڑا سبب ہیں۔ چین نے ہمیشہ دنیا کے لیے اپنے دروازے مزید کھولے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ چین باقی دنیا کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے اصولوں کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے بحرالکاہل اتحادی طویل عرصے سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ چین بحیرہ جنوبی چین میں آزادیٔ جہاز رانی کے اصول کو تسلیم کرے۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی قوانین کے دفاع کے بجائے براہِ راست امریکی طاقت پر زیادہ زور دینا شروع کیا ہے۔

