پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیاوربان کا ٹرمپ کو دوٹوک پیغام: روسی توانائی کٹنے پر معیشت بیٹھ...

اوربان کا ٹرمپ کو دوٹوک پیغام: روسی توانائی کٹنے پر معیشت بیٹھ جائے گی
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ اگر ان کا ملک روسی تیل اور گیس سے توانائی کے تعلقات ختم کر دے تو ہنگری کی معیشت فوراً ہی بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے یہ بات حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں کہی۔

بوداپسٹ مسلسل برسلز اور واشنگٹن کے بڑھتے دباؤ کی مزاحمت کر رہا ہے کہ روسی توانائی پر انحصار ختم کیا جائے۔ ہنگری اس کے لیے جغرافیائی اور انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے مفادات کو بھی جواز بناتا ہے۔

اوربان نے جمعہ کے اپنے باقاعدہ انٹرویو میں کہا: ’’اگر ہنگری کو روسی تیل اور گیس سے کاٹ دیا گیا تو ایک منٹ کے اندر ہنگری کی معاشی کارکردگی 4 فیصد گر جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہنگری کی معیشت گھٹنے ٹیک دے گی۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ نے ان کی دلیلیں قبول کیں تو اوربان نے کہا: ’’امریکہ کے اپنے دلائل اور مفادات ہیں، اور ہنگری کے اپنے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم انہیں صاف الفاظ میں بیان کریں اور ان کی نمائندگی کریں۔ اگر ہم دوست ہیں تو ایک دوسرے کو سنتے ہیں—اور پھر سب وہی کرتے ہیں جو انہیں درست لگتا ہے۔‘‘

ٹرمپ نے بھی ان خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے اوربان کو ’’ایک بہترین شخص‘‘ اور ’’میرا اچھا دوست‘‘ قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’ہنگری خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے۔ ان کے پاس کوئی سمندر نہیں جہاں سے دنیا بھر سے جہاز آ سکیں۔ ان کے پاس صرف ایک پائپ لائن ہے۔‘‘ انہوں نے ’’دروژبا‘‘ (یعنی دوستی) آئل پائپ لائن کا حوالہ دیا، جسے حالیہ دنوں میں یوکرین کی کئی کارروائیوں نے نشانہ بنایا، جس سے ہنگری اور سلوواکیہ کو سپلائی متاثر ہوئی۔

ٹرمپ نے مزید کہا: ’’اور سلوواکیہ بھی، وہ بھی اسی ایک پائپ لائن پر منحصر ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ لوگ انہیں الزام دیں۔‘‘

ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر سجیارتو نے بھی زور دیا کہ بوداپسٹ بیرونی دباؤ میں آکر اپنے ’’قومی مفادات‘‘ کو نہیں چھوڑے گا۔ یہ بیان انہوں نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے چند گھنٹوں بعد دیا، جو اوربان اور ٹرمپ کی گفتگو کے فوراً بعد ہوئی تھی۔

سجیارتو نے برسلز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ’’دروژبا‘‘ پر حملوں کے بعد رکن ممالک کی توانائی سلامتی کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا: ’’توانائی سلامتی کا تحفظ کرنے کے بجائے انہوں نے ہمیں لیکچر دیے۔ اور یہ ایک اسکینڈل ہے، میری نظر میں۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین