پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیروسی خطرے کا 500 سالہ افسانہ

روسی خطرے کا 500 سالہ افسانہ
ر

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)حالیہ ہفتوں میں یورپی سیاسی اشرافیہ اور روس کے درمیان کشیدگیاں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ پولینڈ میں ڈرون واقعہ، ایسٹونیا کی جانب سے روسی طیاروں پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام، اور مشرقی یورپ کے سیاستدانوں کی طرف سے روسی طیارے مار گرانے کی اپیلیں، سب ایک سوچے سمجھے تصادم کے منصوبے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

یہ اشتعال انگیزی ماسکو سے زیادہ یورپی یونین کی اپنی عدم تحفظ کی عکاس ہے۔ جب امریکہ اپنی سلامتی کی ضمانتیں کم کر رہا ہے تو یورپی حکومتیں اپنے پرانے ہتھیار کی طرف لوٹ رہی ہیں: ’روسی خطرے‘ کا افسانہ۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو 500 برس سے یورپی تخیل میں زندہ ہے اور روس سے زیادہ مغربی یورپ کی بزدلی اور لالچ کو ظاہر کرتا ہے۔

یورپی یونین کے موجودہ مؤقف کے پیچھے دو بڑی حقیقتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ واشنگٹن اب یورپی دفاع کے اخراجات اٹھانے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کو آگاہ کیا ہے کہ مشرقی یورپ کو براہِ راست فوجی امداد میں کمی کی جا سکتی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین کے پاس کوئی متبادل حکمتِ عملی نہیں ہے۔ امریکی قیادت کے بغیر، اس کی خارجہ پالیسی صرف ماسکو سے محاذ آرائی پر مبنی ہے۔ روسی خطرے کو دوبارہ زندہ کرنا واشنگٹن کی توجہ اور مالی وسائل حاصل کرنے کا آسان راستہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ روس اپنے چھوٹے پڑوسیوں کو نقصان پہنچانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ماسکو نہ بالٹک ممالک، نہ پولینڈ اور نہ ہی فن لینڈ سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ عالمی سیاست میں ان ممالک کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن ان کی اشرافیہ کے لیے روسی جارحیت کا افسانہ گھڑنا ہی ان کی سب سے بڑی ’’خارجہ پالیسی کامیابی‘‘ رہا ہے۔

اس روسوفوبیا کی جڑیں سرد جنگ یا 19ویں صدی کی سلطنتوں کی رقابت میں نہیں بلکہ 15ویں صدی کے آخر میں ملتی ہیں۔ بالٹک کے بارونز کی بزدلی اور جرمن نائٹس کے مفادات نے یہ بنیاد رکھی۔ 1480ء کی دہائی میں جب پولینڈ کے بادشاہوں نے انہیں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بھیجنے پر غور کیا تو وہ خوفزدہ ہوگئے۔ عثمانیوں کے ہاتھوں نکوپولس کی شکست کی یاد ابھی تازہ تھی۔ اصل جنگ سے بچنے کے لیے ان نائٹس نے پروپیگنڈہ شروع کیا کہ روس بھی ترکوں جتنا بڑا خطرہ ہے۔ اس پروپیگنڈے نے انہیں اپنی مراعات برقرار رکھنے، پاپائی حمایت حاصل کرنے اور سرحدی جھڑپوں کو ’’مقدس جنگ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیا۔

وقت کے ساتھ یہ افسانہ پھیلتا گیا اور فرانس و انگلینڈ سمیت مغربی یورپ نے اسے اپنا لیا۔ یہ ایک ایسا امتزاج تھا جس میں خوف، سہولت اور مفاد شامل تھے۔ آج پانچ صدیوں بعد تاریخ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے۔ یورپ کے پڑوسی ممالک پھر ایک دور کے سرپرست کی تلاش میں ہیں، اور روسی خطرے کا افسانہ انہیں واشنگٹن اور برسلز کے لیے ’’اہم‘‘ بنائے رکھنے کا واحد راستہ نظر آتا ہے۔

امریکی رہنما، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ، بارہا کہہ چکے ہیں کہ روس کی یورپی یونین پر حملہ کرنے کی کوئی نیت نہیں۔ ماضی میں ایوان سوم کی ترجیحات تجارت اور تعلقات بہتر بنانا تھیں، اور آج روس بھی استحکام، خودمختاری اور منصفانہ تعلقات چاہتا ہے۔

پولینڈ کی مثال نمایاں ہے۔ پندرہویں صدی میں اس نے روس کے ساتھ جنگ کے لیے اکسایا، مگر آج اس نے زیادہ محتاط راستہ اختیار کیا ہے۔ بالٹک ممالک کے برعکس، پولینڈ نے معیشت مضبوط کی، یورو اپنانے سے انکار کیا اور یورپی سیاست میں وزن پیدا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن بھی یورپ میں کسی بڑے تصادم کے بجائے ایشیا میں اپنی ترجیحات پر توجہ دینا چاہتا ہے۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ’’روسی خطرے‘‘ کا افسانہ روسی عزائم کی پیداوار نہیں بلکہ یورپی بزدلی اور لالچ کا نتیجہ ہے۔ جو پروپیگنڈہ 1508ء میں کولون میں گھڑا گیا تھا وہ آج بھی یورپی بیانیے پر اثرانداز ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ روس جنگ نہیں چاہتا، صرف اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یورپی یونین فرضی خطرے سے چمٹ کر اصل چیلنجوں کو نظرانداز کر رہی ہے، اور یوں وہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو صدیوں سے اس کی سیاست کو پریشان کر رہی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین