مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – صیہونی اخبار معاریو نے جمعرات کو رپورٹ میں بتایا کہ یمن کی جانب سے مقبوضہ شہر ام الرشراش (ایلات) پر تازہ ڈرون حملے میں اختیار کی گئی نئی حکمتِ عملی نے صیہونی فضائیہ کو شدید خفت سے دوچار کر دیا۔
اخبار کے مطابق دشمن فضائیہ کی ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ کئی ناکامیوں کے باعث دفاعی نظام یمنی ڈرون کو روکنے میں ناکام رہا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دشمن کی فوج ڈرون کو اس وقت تک نہیں پہچان سکی جب تک کہ وہ شہر کے اندر پھٹنے سے صرف چار منٹ پہلے ظاہر نہ ہوا، جو یمنی کارروائی کی منصوبہ بندی اور مہارت کی سطح کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ نادر اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن فلسطینی کاز اور غزہ کی حمایت جاری رکھتے ہوئے صیہونی اہداف پر بلند اثر رکھنے والے حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
یمنی مسلح افواج نے اس ہفتے ام الرشراش اور بئر السبع میں دشمن کے مقامات پر متعدد ڈرون حملوں کی تصدیق کی۔ صیہونی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایلات میں ایک حملے کے نتیجے میں 24 سے زائد فوجی اور آبادکار زخمی ہوئے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں یمن نے ڈرون جنگی حکمتِ عملی کو بتدریج بہتر بنایا ہے اور امریکی-صیہونی مشترکہ دفاعی نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ تازہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صنعا کا خطے کے محاذ پر بڑھتا ہوا کردار غزہ کے ساتھ اس کی جنگی حکمتِ عملی کو مربوط کر رہا ہے اور صیہونی دشمن پر ہمہ جہتی دباؤ قائم کر رہا ہے۔

