پیر, فروری 16, 2026
ہومبین الاقوامیروس کا انتباہ: مصنوعی ذہانت کی ’ہتھیاروں کی دوڑ‘ انسانیت کیلیے خطرہ

روس کا انتباہ: مصنوعی ذہانت کی ’ہتھیاروں کی دوڑ‘ انسانیت کیلیے خطرہ
ر

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب دمتری پولیانسکی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی اور اس میدان میں بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

بدھ کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں مصنوعی ذہانت پر بریفنگ دیتے ہوئے پولیانسکی نے کہا کہ اس شعبے میں ضابطوں اور حفاظتی اقدامات کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ مزید ممالک اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی دوڑ – یعنی جیو پولیٹیکل حریفوں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو تیز رفتاری سے ترقی دینا، جسے نہ مکمل طور پر سمجھا گیا ہے اور نہ ہی قابو میں ہے، اور تمام فریقین کے لیے حفاظتی اقدامات کے بغیر – بالکل ہتھیاروں کی دوڑ کی طرح، انسانیت کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی سوشل میڈیا پر خبریں اور جھوٹی معلومات پھیلا کر عوامی رائے اور انتخابات کو متاثر کر سکتی ہے اور اہم انفراسٹرکچر کو بھی درہم برہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پولیانسکی نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اس مسئلے کو اٹھانا قبل از وقت ہے، لیکن جامع فورمز میں اس پر بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ روس اقوام متحدہ کے زیر قیادت مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور ضابطہ سازی کے نظام کی حمایت کرے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے بھی اس اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، اگرچہ مصنوعی ذہانت خوراک کی قلت کے حل، بارودی سرنگوں کی صفائی اور تنازعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے لیے حفاظتی فریم ورک نہ بنایا گیا تو یہ ایک ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ جنرل اسمبلی نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے دو نئے ادارے قائم کیے ہیں – ایک عالمی فورم اور دوسرا ماہرین کا پینل – تاکہ ضابطہ کاری اور تعاون کو مربوط کیا جا سکے۔

تین سال قبل چیٹ جی پی ٹی کے آغاز نے مصنوعی ذہانت میں زبردست تیزی پیدا کی۔ عوامی ریکارڈ کے مطابق میٹا، مائیکروسافٹ، ایمیزون اور الفابیٹ نے رواں سال اس شعبے میں درجنوں ارب ڈالر خرچ کیے اور منصوبہ ہے کہ 2026 تک مجموعی سرمایہ کاری 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تیزی ایک مالیاتی ببل کو جنم دے سکتی ہے اور ممکنہ بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود وجودی خطرات پیدا کرتی ہے – جیسے انجینئرڈ وبائی امراض یا قابو سے باہر نکلنے والی مصنوعی ذہانت – اگر اس پر سخت حفاظتی ضابطے نہ لگائے گئے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین